امریکہ کا اسرائیل کے امدادی کارکنوں کیساتھ ناروا سلوک پر مبہم بیان

واشنگٹن(آئی این پی )امریکی محکمہ خارجہ نے غزہ جانے والے امدادی بحری قافلے کے کارکنوں کے ساتھ اسرائیلی فورسز کے ناروا سلوک پر مبہم بیان جاری کیا ہے، تاہم اسرائیلی رویے کی واضح مذمت نہیں کی گئی۔ محکمہ خارجہ کے عہدیدار نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تمام زیر حراست افراد کے ساتھ انسانی ہمدردی پر مبنی سلوک کیا جانا چاہئے اور یہ سلوک بین الاقوامی قانون کے مطابق ہونا چاہئے۔ عہدیدار نے ایک بار پھر ان شہری کشتیوں کے قافلے کی مخالفت بھی دہرائی جو غزہ کی اسرائیلی ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کر رہا ہے اور بغیر کسی ثبوت کے اسے حماس سے جوڑنے کی کوشش کی۔عہدیدار نے کہا امریکا عالمی صمود فلوٹیلا کی مذمت کرتا ہے اور اس بات پر زور دیا کہ واشنگٹن قافلے کے منتظمین پر پابندیاں عائد کر چکا ہے۔فلسطینی حقوق کے حامی کارکنوں نے امریکی پابندیوں کو مسترد کرتے ہوئے اسے اسرائیل پر تنقید کرنے والی آوازوں کو خاموش کرانے کی کوشش قرار دیا ہے۔ دوسری جانب  اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کے جاری محاصرے کے باعث غزہ کا صحت کا نظام تباہی کے دہانے پر ہے اور ہسپتالوں سمیت اہم طبی آلات کو چلانے کے لئے ضروری سامان کی فراہمی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق غزہ میں صحت کی سہولیات اور خدمات پر 22 حملے دستاویزی شکل میں ریکارڈ کئے گئے ہیں، جن کے نتیجے میں جانی نقصان ہوا ہے اور طبی نقل و حمل اور ہسپتالوں کے معمول کے کام میں خلل پڑا ہے۔اقوام متحدہ کے مطابق فلسطینیوں کو پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے اور ہر چار میں سے تین خاندان اب پانی ٹینکروں کے ذریعے فراہم کردہ سپلائی پر انحصار کر رہے ہیں۔امدادی تنظیموں کا کہنا ہے کہ روزانہ تقریبا 24 ہزار مکعب میٹر پانی تقریبا 2 ہزار مقامات کے ذریعے تقسیم کیا جا رہا ہے تاہم ضروریات کے مقابلے میں یہ مقدار ناکافی ہے۔