حزب اللہ کے لبنان میں موجود اسرائیلی فوجیوں پر ڈرونز، کواڈ کاپٹرز، توپ خانے سے حملے
بیروت،واشنگٹن(آئی این پی )اسرائیلی فوج کے جنوبی لبنان میں طبی مرکز پر فضائی حملے میں کم از کم چار افراد جاںبحق ہوگئے یتیم خانے کے قریبی علاقے پر بھی گولہ باری کی گئی ہے۔لبنان کی قومی خبر رساں ادارے کے مطابق طائر کے علاقے میں حناویہ شہر میں ایک صحت مرکز پر رات بھر کیے گئے فضائی حملوں میں چار افراد جابحق ہو گئے جبکہ دو امدادی کارکن زخمی بھی ہوئے۔ خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی توپ خانے نے جنوبی قصبے شوقین میں ایک یتیم خانے کے نزدیک علاقے کو بھی نشانہ بنایا، ابتدائی اطلاعات کے مطابق فوری طور پر کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال کے مطابق 2 مارچ سے اب تک اسرائیلی حملوں میں 200 سے زائد بچے جاں بحق جبکہ 800 سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔دوسری طرف جنوبی لبنان کے سرکاری ہسپتال پر بھی اسرائیل نے حملہ کیا جس میں طبی عملے کے 7 ارکان سمیت 9 افراد زخمی ہوگئے تھے، حملے کے نتیجے میں ہسپتال کی بیرونی عمارت اور متعدد منزلوں کو نقصان پہنچا۔اسرائیلی حملوں کے باعث کئی اہم شعبے متاثر ہوئے جن میں ایمرجنسی وارڈ، مریضوں کے کمرے، کیموتھراپی یونٹ، انتہائی نگہداشت وارڈ، ایم آر آئی، سرجری، عمومی دیکھ بھال، انتظار گاہیں اور عملے کی رہائش شامل ہیں۔ دوسری جانب لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ نے کہا ہے کہ جنوبی لبنان میں موجود اسرائیلی فوجیوں پر 16 مختلف حملے کئے۔ تنظیم کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ان کارروائیوں میں راکٹ حملے کئے، حملوں میں ڈرونز، کواڈ کاپٹرز اور توپ خانے کی فائرنگ شامل تھی، حزب اللہ کے مطابق یہ حملے جنوبی سرحدی دیہاتوں میں موجود اسرائیلی فوجیوں، توپ خانے کی پوزیشنوں اور بکتر بند گاڑیوں کو نشانہ بنا کر کئے گئے، جن میں راشاف، بنت جبیل، نقورہ اور دیر سریان شامل ہیں۔حزب اللہ کے مطابق اس کے جنگجوں نے شام نقورہ کے بندرگاہی علاقے کے قریب موجود اسرائیلی فوجیوں اور گاڑیوں کو نشانہ بنایا، تنظیم کا کہنا ہے کہ طیر حرفا اور دیبل کے علاقوں میں بھی حملہ آور ڈرون استعمال کرتے ہوئے اسرائیلی اہداف پر کارروائیاں کی گئیں۔تنظیم نے یہ نہیں بتایا کہ ان حملوں میں کسی جانی نقصان کی اطلاع ملی ہے یا نہیں۔ادھر مریکا نے لبنان میں حزب اللہ سے منسلک 9 افراد پر پابندیاں لگا دیں۔ عرب میڈیا کے مطابق امریکی وزیر خزانہ نے کہا ہے کہ حزب اللہ کو مکمل طور پر غیر مسلح کیا جانا چاہیے، لبنانی حکومت میں درانداری اور دیرپا امن میں رکاوٹ ڈالنے والوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھیں گے، حزب اللہ ارکان پارلیمنٹ سمیت سیاسی نمائندوں کے نیٹ ورک پر انحصار کرتی ہے۔