فیلڈ مارشل عاصم منیر کیساتھ رابطے ہیں، ایران سے ڈیل ہوسکتی ہے ‘یہ واضح ہے ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہیں: امریکی وزیرخارجہ

امن معاہدہ‘جلد خوشخبری ملنے کا امکان فیلڈ مارشل ایران پہنچ گئے تہران نے مذاکراتی ٹیم بنا دی
 فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی   اعلیٰ ایرانی شخصیات سے ملاقاتیں‘پاکستان کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے درمیان تیار کئے گئے ممکنہ معاہدے کے مسودے کا اعلان آئندہ چند گھنٹوں ہوسکتا ہے:ذرائع
ایرانی پارلیمنٹ کے  سپیکر باقر قالیباف مذاکرات میں وفد کے سربراہ ہوں گے، ٹیم کا ترجمان اسماعیل بقائی کو مقرر کیا گیا ہے‘تہران سنجیدگی اور نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات کا راستہ اپنائے ہوئے ہے :ایرانی وزارت خارجہ
 اسلام آباد‘ سویڈن(( آن لائن )سید عاصم منیر  سرکاری دورے پر ایران پہنچ گئے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دورے کے دوران وہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات، خطے میں امن و استحکام اور باہمی دلچسپی کے دیگر اہم امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے  دورہ ایران کے دوران اہم اعلیٰ ایرانی شخصیات سے ملاقاتیں کی ہیں، جن میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی سیکیورٹی صورتحال اور دفاعی تعاون سمیت مختلف معاملات زیرِ غور آئے۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ دورہ پاکستان اور ایران کے درمیان سفارتی و دفاعی روابط کو مزید مضبوط بنانے میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کی ثالثی میں امریکا اور ایران کے درمیان تیار کیے گئے ممکنہ معاہدے کے مسودے کا اعلان آئندہ چند گھنٹوں میں کیا جا سکتا ہے، جس میں فوری جنگ بندی، پابندیوں میں نرمی اور خطے میں کشیدگی کم کرنے سے متعلق اہم نکات شامل ہیں۔امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے  ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے حوالے سے پیش رفت جاری ہے اور اس عمل میں پاکستان کے ساتھ رابطے بھی برقرار ہیں۔ ان کے مطابق امید کی جا رہی ہے کہ فریقین کے درمیان ایک معاہدہ طے پا سکتا ہے، جبکہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔سوئیڈن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ وہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور ایران کے ساتھ ڈیل کو پہلی ترجیح کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان جاری بات چیت میں پاکستان بطور ثالث کردار ادا کر رہا ہے، جو خطے میں امن کے لیے اہم پیش رفت ہو سکتی ہے۔امریکی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے پر کام جاری ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ایک متبادل منصوبہ (پلان بی) بھی موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کا مؤقف واضح ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔دریں اثناء مشرق وسطیٰ صورتحال پر امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے ایران نے اپنی مذاکراتی ٹیم کا اعلان کر دیا۔ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ سپیکر باقر قالیباف مذاکرات وفد کے سربراہ ہوں گے، ایران کی مذاکراتی ٹیم کا ترجمان اسماعیل بقائی کو مقرر کیا گیا ہے۔واضح رہے کہ اس سے قبل ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے  تہران سنجیدگی اور نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات کا راستہ اپنائے ہوئے ہے اور مذاکرات سے متعلق تفصیلات مجاز حکام کی جانب سے فراہم کی جائیں گی۔