حافظ عبدالغفار روپڑی
قوموں کی تاریخ میں کچھ دن ایسے ہوتے ہیں جو صرف کیلنڈر کی ایک تاریخ نہیں رہتے بلکہ قومی شعور، اجتماعی احساس اور آنے والی نسلوں کی روح میں ہمیشہ کے لیے نقش ہوجاتے ہیں۔ پاکستان کی تاریخ میں 28مئی کا دن بھی ایک ایسا ہی ناقابلِ فراموش اور یادگار دن ہے۔ یہ وہ دن ہے جب بلوچستان کے سنگلاخ پہاڑوں نے اللہ اکبر کی فلک شگاف صدا کے ساتھ دنیا کو یہ اعلان سنایا کہ پاکستان ایک خوددار، باوقار اور ناقابلِ تسخیر ریاست ہے۔ یہی وہ عظیم دن ہے جسے پوری قوم یومِ تکبیر کے نام سے یاد کرتی ہے۔ تکبیر محض ایک لفظ نہیں بلکہ ایمان، یقین، جرا? ت اور عظمت کا استعارہ ہے۔ جب ایک مسلمان اللہ اکبر کہتا ہے تو دراصل وہ دنیا کو یہ پیغام دیتا ہے کہ سب سے بڑی طاقت صرف اللہ تعالی کی ہے۔ 28 مئی کا دن اسی روحانی اور قومی احساس کی علامت بن چکا ہے۔
اسلام امن، محبت، برداشت اور انسانیت کا دین ہے۔ اسلام نے ہمیشہ خونریزی، ظلم اور جارحیت کی مذمت کی ہے۔ قرآنِ مجید انسانوں کو صلح، انصاف اور بھائی چارے کا درس دیتا ہے مگر اس کے ساتھ اسلام یہ بھی حکم دیتا ہے کہ دشمن کے مقابلے کے لیے اپنی قوت اور تیاری مکمل رکھو۔ قرآنِ پاک میں ارشادِ باری تعالی ہے: اور تم ان ( دشمن ) کے مقابلے میں اپنی استطاعت کے مطابق قوت تیار رکھو۔ یہی اسلامی فلسفہ دراصل پاکستان کے دفاعی نظریے کی بنیاد ہے۔ پاکستان نے کبھی جنگ کی خواہش نہیں کی نہ ہی کسی ملک پر جارحیت کی نیت رکھی، لیکن ہمیشہ اپنی آزادی، خودمختاری اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے مضبوط دفاع کو ناگزیر سمجھا ہے۔ پاکستان کا ایٹمی پروگرام بھی کسی توسیع پسندانہ سوچ کا نتیجہ نہیں بلکہ یہ دشمن کی مسلسل دھمکیوں اور جارحانہ عزائم کے مقابلے میں ایک دفاعی ضرورت تھی۔
قیامِ پاکستان کے فوراََ بعد ہی بھارت نے یہ ثابت کردیا تھا کہ وہ دل سے پاکستان کے وجود کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔ کبھی کشمیر پر حملہ، کبھی سرحدی کشیدگی، کبھی پانی کی بندش کی دھمکیاں اور کبھی جنگی جارحیت، بھارت ہمیشہ پاکستان کو دبا ئو میں رکھنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ انہی خطرات کے پیشِ نظر پاکستان نے اپنے دفاع کو مضبوط بنانے کا فیصلہ کیا۔
مئی 1998ء میں اس وقت حالات انتہائی کشیدہ ہوگئے جب بھارت نے راجھستان کے مقام پر یکے بعد دیگرے پانچ ایٹمی دھماکے کیے۔ ان دھماکوں کے بعد بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کے تکبر آمیز بیانات پورے خطے میں خوف و اضطراب پیدا کررہے تھے۔ بھارتی میڈیا پاکستان کے خلاف زہر اگل رہا تھا اور دنیا یہ سمجھنے لگی تھی کہ جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن مکمل طور پر بھارت کے حق میں جاچکا ہے۔ واجپائی پاکستان کو ملیا میٹ کرنے کی دھمکیاں دے رہے تھے۔ یہ صرف الفاظ نہیں تھے بلکہ پاکستان کی سلامتی کے لیے ایک واضح خطرہ تھا۔
اس موقع پر پوری پاکستانی قوم کی نظریں اپنی قیادت پر مرکوز تھیں۔دوسری طرف امریکہ اور دیگر عالمی طاقتیں پاکستان پر شدید دبا ئو ڈال رہی تھیں کہ وہ ایٹمی دھماکے نہ کرے۔ معاشی پابندیوں، امداد کی بندش اور سفارتی تنہائی کی دھمکیاں دی جارہی تھیں۔ بعض حلقے یہ تاثر دے رہے تھے کہ پاکستان معاشی طور پر اتنا مضبوط نہیں کہ عالمی پابندیوں کا بوجھ برداشت کرسکے لیکن پاکستانی عوام کے دلوں میں ایک ہی آواز گونج رہی تھی کہ قومی وقار اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
آخرکار 28 مئی کا وہ تاریخی لمحہ آن پہنچا جب بلوچستان کے ضلع چاغی کے پہاڑوں میں زمین لرز اٹھی۔ چند لمحوں کے اندر اندر پہاڑوں کا رنگ تبدیل ہوگیا اور فضا اللہ اکبر کے نعروں سے گونج اٹھی۔ پاکستان نے کامیاب ایٹمی دھماکے کرکے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ وہ اپنی آزادی اور خودمختاری کے دفاع کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔الحمد للہ اس دن پاکستان دنیا کی ساتویں اور عالمِ اسلام کی پہلی ایٹمی قوت بن گیا۔
یومِ تکبیر کے موقع پر پاکستان میں جو جذباتی کیفیت پیدا ہوئی، وہ شاید ہی قوم نے پہلے کبھی محسوس کی ہو۔ ملک کے طول و عرض میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ گلیوں، بازاروں، محلوں اور شہروں میں مٹھائیاں تقسیم کی جارہی تھیں۔ لوگ ایک دوسرے کو مبارکباد دے رہے تھے۔ نوجوان سڑکوں پر نکل آئے تھے، سبز ہلالی پرچم فضا میں لہرا رہے تھے اور پاکستان زندہ باد کے نعرے گونج رہے تھے۔ مساجد میں سجد شکر ادا کیا جارہا تھا۔ بوڑھوں کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے جبکہ نوجوانوں کے چہروں پر فخر اور اعتماد نمایاں تھا۔
ایسا محسوس ہوتا تھا کہ پوری قوم ایک جسم اور ایک جان بن گئی ہو۔ ہر پاکستانی اپنے آپ کو پہلے سے زیادہ محفوظ، باوقار اور طاقتور محسوس کررہا تھا۔ یہ صرف ایک سائنسی کامیابی نہیں تھی بلکہ ایک نظریاتی، قومی اور ایمانی فتح تھی۔ چاغی کے پہاڑ اس دن صرف پتھر کے پہاڑ نہیں رہے تھے بلکہ قومی غیرت، عزم اور استقلال کی علامت بن گئے تھے۔
گوکہ پاکستان اس وقت ایٹمی صلاحیت کا حامل ہے اس کے باوجود یومِ تکبیر ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ قومیں صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ اتحاد، ایمان، علم اور قربانی سے مضبوط بنتی ہیں۔ اگر پاکستانی سائنس دان، افواجِ پاکستان، سیاسی قیادت اور عوام ایک صفحے پر نہ ہوتے تو شاید یہ خواب کبھی حقیقت نہ بنتا۔ یہ دن ہمیں اتحاد و یکجہتی کی طاقت کا احساس دلاتا ہے۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم یومِ تکبیر کو صرف ایک جشن کے طور پر نہ منائیں بلکہ اس کے حقیقی پیغام کو سمجھیں۔ ایٹمی قوت بن جانا یقینا ایک عظیم کامیابی ہے، مگر اصل طاقت تعلیم، معیشت، اخلاق، تحقیق اور قومی اتحاد میں پوشیدہ ہے۔ اگر ہم علمی اور معاشی میدان میں بھی مضبوط ہوجائیں تو دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکے گی۔ یومِ تکبیر ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ آزادی اور خودمختاری ہمیشہ قربانی مانگتی ہے۔ جو قومیں اپنی حفاظت کے لیے تیار نہیں ہوتیں تاریخ انہیں مٹا دیتی ہے۔ پاکستان نے دنیا کو یہ ثابت کیا کہ وہ امن کا خواہاں ضرور ہے مگر کمزور ہرگز نہیں۔
آج کے حالات بھی ہمیں یومِ تکبیر کی اہمیت کا شدت سے احساس دلاتے ہیں۔ گذشتہ سال بھارت نے پہلگام میں فالس فلیگ آپریشن کا ڈرامہ رچا کر ایک مرتبہ پھر پاکستان کے خلاف زہر اگلنے اور دنیا کو گمراہ کرنے کی کوشش کی۔ اس سارے ڈرامے کا مقصد یہ تھا کہ جھوٹے الزامات کی آڑ میں پاکستان کو دبا ئو میں لایا جائے، خطے میں جنگی ماحول پیدا کیا جائے اور پاکستان کو نیست و نابود کرنے کے خواب کو عملی شکل دی جائے۔ بھارتی میڈیا نے حسبِ روایت بغیر ثبوت پاکستان پر الزام تراشی کا بازار گرم کیا، مگر وقت نے ایک بار پھر ثابت کردیا کہ سچائی کو
جھوٹ کے شور سے دبایا نہیں جاسکتا۔
قدرت کا فیصلہ دیکھیے کہ جو قوتیں پاکستان کو کمزور سمجھ رہی تھیں، انہیں ایک بار پھر یہ احساس ہوگیا کہ پاکستان آج کوئی کمزور ریاست نہیں بلکہ ایک مضبوط، باوقار اور ایٹمی طاقت ہے۔ دشمن کے تمام ناپاک عزائم اس کے اپنے خوف میں تبدیل ہوگئے۔ اللہ تعالی نے پاکستان کو جو عظیم قوت، وقار اور دفاعی طاقت عطا کی ہے، اس میں یومِ تکبیر کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر پاکستان ایٹمی قوت نہ بنتا تو شاید دشمن کے عزائم کہیں زیادہ خطرناک شکل اختیار کرچکے ہوتے۔
آج جب مئی کا سورج طلوع ہوتا ہے تو چاغی کے پہاڑ ہمیں پکار پکار کر یہ پیغام دیتے ہیں کہ یہ وطن لاکھوں قربانیوں کی امانت ہے۔ اس کی حفاظت صرف فوج یا سائنس دانوں کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر پاکستانی کا فرض ہے۔ ہمیں اپنے کردار، علم، محنت اور اپنی وفاداری کے ذریعے پاکستان کو مضبوط بنانا ہوگا۔الحمد للہ اس وقت پاکستان کو ایٹمی دھماکے کئے 28سال ہوچکے ہیں خوشی کے اس موقع پر ہم محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور ان کے رفقاء کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور پاکستان کے برادر اسلامی ملک سعودی عرب کے بھی شکر گزار ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر اس وقت سعودی عرب پاکستان کے ساتھ فراخدلانہ اور برادرانہ تعاون نہ کرتا تو پاکستان کیلئے کبھی بھی ایٹمی دھماکے کرنا ممکن نہ ہوتا۔ لہذا آئیں دل کی گہرائیوں سے کہیں
پاکستان زندہ باد!برادر اسلامی ملک سعودی عرب زندہ باد
یومِ تکبیر پائندہ باد!