اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف آئندہ ہفتے خطے کے چھ اہم ممالک ترکیہ، آذربائیجان، سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات اور ایران کا ایک اہم سفارتی دورہ کریں گے، جس کا مقصد نہ صرف علاقائی اور عالمی سطح پر پاکستان کے مؤقف کو مؤثر انداز میں پیش کرنا ہے بلکہ ان ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط کرنا بھی ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم آفس اور دفتر خارجہ ان دوروں کے شیڈول اور تاریخوں کو حتمی شکل دینے میں مصروف ہیں، جبکہ متعلقہ وزارتوں کو تیاریوں کی ہدایات بھی جاری کر دی گئی ہیں۔ وزیراعظم کے اس دورے کے دوران مختلف ممالک کے اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں، باہمی تعاون کے معاہدے اور علاقائی سلامتی سے متعلق مشاورت متوقع ہے۔ان سفارتی ملاقاتوں کے دوران وزیراعظم شہباز شریف دوست ممالک کو بھارتی جارحیت، جھوٹے الزامات، اور حالیہ علاقائی کشیدگی پر بھی اعتماد میں لیں گے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم کا مقصد بھارت کے اصل چہرے کو دنیا کے سامنے بے نقاب کرنا اور پاکستان کا مؤقف مضبوط انداز میں پیش کرنا ہے۔سفارتی حلقے ان دوروں کو نہایت اہم قرار دے رہے ہیں، خاص طور پر موجودہ عالمی و علاقائی حالات کے تناظر میں، جہاں مشرق وسطیٰ، خلیجی ممالک اور جنوبی ایشیا میں تیزی سے بدلتے حالات پاکستان کی خارجہ پالیسی کے لیے نئے امکانات اور چیلنجز لے کر آ رہے ہیں۔
ان دوروں سے پاکستان کو اقتصادی میدان میں بھی فائدہ پہنچنے کی توقع ہے، خاص طور پر سرمایہ کاری، توانائی، تجارت، اور دفاعی تعاون کے شعبوں میں نئی راہیں کھل سکتی ہیں۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اس دورے کے ذریعے پاکستان کی سفارتی پوزیشن کو مزید فعال بنانے، ہمسایہ ممالک سے تعلقات کو وسعت دینے، اور بین الاقوامی برادری کو پاکستان کے مؤقف سے آگاہ کرنے کے لیے متحرک سفارت کاری اپنائیں گے۔