برطانیہ میں بارشوں کی کمی اور درجہ حرارت میں مسلسل اضافے کے باعث خشک سالی کا خطرہ سر اٹھانے لگا ہے۔
مئی کے آغاز سے گرمی کی لہر نے شدت اختیار کر لی ہے، اور یکم مئی کو درجہ حرارت 29.3 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا پہنچا—جو اس وقت سال کا بلند ترین درجہ حرارت ہے۔برطانوی ماحولیاتی ایجنسی کے مطابق اگر آئندہ دنوں میں خاطر خواہ بارشیں نہ ہوئیں تو ملک درمیانے درجے کی خشک سالی کے خطرے سے دوچار ہو سکتا ہے۔ ایجنسی نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ زرعی شعبہ، پانی کی فراہمی اور ماحولیاتی نظام بری طرح متاثر ہو سکتے ہیں۔
ممکنہ تبدیلی کی امید:
موسم کی صورتحال میں ہفتے کے اختتام تک کچھ بہتری کی پیشگوئی کی گئی ہے۔بحر اوقیانوس سے کم دباؤ داخل ہونے کے باعث مغربی علاقوں میں ہلکی بارشوں کا امکان ہے۔شمال مغربی اسکاٹ لینڈ میں تیز ہوائیں چلنے کی پیشگوئی ہے، جن کی رفتار 45 میل فی گھنٹہ تک ہو سکتی ہے، جو درجہ حرارت کو 22 ڈگری سینٹی گریڈ تک گرا سکتی ہیں۔ماہرین کے مطابق یہ بارشیں وقتی ریلیف تو فراہم کر سکتی ہیں، مگر خشک سالی سے مکمل بچاؤ کے لیے طویل المدتی اور تسلسل کے ساتھ بارشوں کی ضرورت ہو گی۔
پس منظر:
برطانیہ میں گزشتہ کچھ سالوں سے موسم میں غیر معمولی تبدیلیاں دیکھی جا رہی ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی، گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج اور عالمی درجہ حرارت میں اضافے کو اس صورتحال کی بڑی وجوہات میں شمار کیا جا رہا ہے۔