تباہ ہونے والے طیاروں میں 10 ریپر ڈرون شامل ‘6 امریکی جنگی طیاروں کو شدید نقصان پہنچنے کی اطلاعات ‘ 3 جنگی طیارے کویت کی فضاؤں میں تباہ ہوئے، ایک کے سی 135 ری فیولنگ طیارہ دورانِ پرواز حادثے کا شکار
پاسداران انقلاب کے ترجمان جنرل علی محمد نائینی شہید‘ میزائل بنانے کی رفتار میں کوئی کمی نہیں آئی، میزائل ذخائر میں کسی قسم کی کمی نہیں، جنگ کے باوجود دفاعی صنعت مکمل طور پر فعال ہے پیداوار مسلسل جاری ہے:ایران
اسرائیل پرحملوں میں اشدوداورحیفہ آئل ریفائنریز پر پہلی بار ملٹی وارہیڈنصراللہ میزائل کا استعمال کیا گیا‘تل ابیب سمیت اسرائیل کے وسطی اور جنوبی علاقوں کو بھی میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا‘ہدف تباہ
قطر کے راس لفان گیس فیلڈ میں حملے کے بعد لگنے والی آگ پر قابو پا لیا گیا ‘ کویت میں دو آئل ریفائنریوں کو ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی‘بحرین‘سعودی عرب پر بھی حملے
واشنگٹن‘تہران(ایجنسیاں‘مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی خبر رساں ادارے بلوم برگ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ میں امریکا کو فضائی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔طرپورٹ کے مطابق اب تک مجموعی طور پر 16 امریکی طیارے تباہ ہو چکے ہیں، جن میں 10 ریپر ڈرون بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 6 امریکی جنگی طیاروں کو شدید نقصان پہنچنے کی بھی اطلاعات ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تین امریکی جنگی طیارے کویت کی فضاؤں میں تباہ ہوئے، جن کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ وہ ممکنہ طور پر فرینڈلی فائر کا نشانہ بنے۔اسی طرح ایک کے سی 135 ری فیولنگ طیارہ دورانِ پرواز حادثے کا شکار ہو گیا، جس میں سوار عملے کے تمام 6 افراد ہلاک ہو گئے۔امریکی حملوں میں پاسداران انقلاب کے ترجمان جنرل علی محمد نائینی شہید ہوگئے‘ایران نے خبردار کیا ایسے ممالک کو جنگ کا حصہ سمجھا جائے گا، ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ کسی بھی قسم کی مدد کو براہِ راست شرکت تصور کیا جائے گا، ایران پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ دشمن کے تمام فوجی اڈے ہدف بن سکتے ہیں۔پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ میزائل بنانے کی رفتار میں کوئی کمی نہیں آئی، میزائل ذخائر میں کسی قسم کی کمی نہیں، جنگ کے باوجود دفاعی صنعت مکمل طور پر فعال ہے پیداوار مسلسل جاری ہے۔ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے اسرائیل کے مختلف علاقوں پر تازہ میزائل حملوں کا دعویٰ کیا ہے جن میں حیفہ کی آئل ریفائنری کو نشانہ بنانے کی بھی اطلاعات ہیں۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق حیفہ شہر کے مختلف علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی ہے۔پاسدارانِ انقلاب کے مطابق ان حملوں میں اشدوداورحیفہ آئل ریفائنریز پر پہلی بار ملٹی وارہیڈنصراللہ میزائل کا استعمال کیا گیا، اس کے ساتھ ساتھ خیبر شکن، عماد اور حاج قاسم میزائل بھی استعمال کیے گئے، دعویٰ کیا گیا ہے کہ تل ابیب سمیت اسرائیل کے وسطی اور جنوبی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔ادھر خطے کے دیگر ممالک میں بھی کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ سعودی عرب کے شہر نبع کے قریب واقع ریفائنری پر حملے کی اطلاعات ہیں، جبکہ ابوظہبی میں میزائلوں کا ملبہ گرنے سے گیس تنصیبات متاثر ہوئیں اور کام روکنا پڑا۔اسی طرح قطر کے راس لفان گیس فیلڈ میں حملے کے بعد لگنے والی آگ پر قابو پا لیا گیا جبکہ کویت میں دو آئل ریفائنریوں کو ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی۔یہ حملے مبینہ طور پر ایران کے پارس گیس فیلڈ پر حملے کے ردعمل میں کیے گئے ہیں، جس کے بعد مشرق وسطیٰ میں صورتحال انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے اور توانائی کی عالمی سپلائی پر بھی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔متحدہ عرب امارات، کویت، سعودی عرب اور بحرین سے میزائل اور ڈرون حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔سری لنکا نے امریکا کی جانب سے دو جنگی طیارے اپنے اڈوں پر تعینات کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے خطے میں جاری کشیدگی کے دوران اپنی غیر جانبدار پالیسی کو برقرار رکھنے کا اعادہ کیا ہے۔صدر انورا کمارا ڈسانائیکے نے پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ امریکا نے 26 فروری کو درخواست کی تھی کہ اپنے میزائلوں سے لیس طیارے مٹالا انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر 4 سے 8 مارچ تک تعینات کرنے کی اجازت دی جائے، تاہم کولمبو نے اس درخواست کو مسترد کر دیا تاکہ اس کی سرزمین کسی بھی فوجی مقصد کے لیے استعمال نہ ہو