وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سوئٹزرلینڈ میں پاکستان کی میزبانی میں ایران اور امریکا کے درمیان معاہدہ طے پایا جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی ہو چکی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ معاہدے کے مطابق آئندہ 60 روز میں تکنیکی مذاکرات ہوں گے اور اس کے بعد ایران اور امریکا ایک مستقل عالمی امن معاہدے تک پہنچیں گے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی میڈیا نے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا ہے۔وزیراعظم نے مزید بتایا کہ آج ایران کے صدر پاکستان کے دورے پر ہیں، جہاں دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر تفصیلی بات چیت ہوگی۔ ان کے مطابق یہ دن اختلافات کا نہیں بلکہ سفارتی کامیابیوں کو اجاگر کرنے کا ہے۔شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں اپوزیشن کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو غیر قانونی قرار دینے کے بیانات حقائق کے منافی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 2018 کے انتخابات کی آزادانہ تحقیقات ہونی چاہئیں تاکہ سچ سامنے آ سکے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر 2018 کے انتخابات میں بے ضابطگیاں نہیں ہوئیں تو پھر موجودہ انتخابات کو بھی اسی معیار پر پرکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ دونوں ادوار کے انتخابات کی جوڈیشل انکوائری کرائی جائے تاکہ “دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی” ہو جائے۔وزیراعظم نے کہا کہ اگر اس معاملے کی مکمل تحقیقات ہوئیں تو حقائق مزید واضح ہوں گے اور سیاسی بحث کو شفاف بنیاد فراہم ہو سکے گی۔