طے پایا ہے کہ آبنائے ہرمز کا انتظام تہران کے پاس ہی رہے گا:محمد باقر قالیباف

طے پایا ہے کہ آبنائے ہرمز کا انتظام تہران کے پاس ہی رہے گا:محمد باقر قالیباف

ایران کے چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کے بعد ہونے والے معاہدے میں یہ طے پایا ہے کہ آبنائے ہرمز کا انتظام بدستور تہران کے زیرِ انتظام رہے گا۔

سوئٹزرلینڈ میں امریکا کے ساتھ مذاکرات کے پہلے دور کے بعد واپسی پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز اب جنگ سے پہلے جیسی صورتحال میں واپس نہیں جائے گی، تاہم ایران بین الاقوامی قوانین کی مکمل پاسداری کرتا رہے گا۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز کا انتظام بین الاقوامی ضوابط کے مطابق ایران کے پاس ہی رہے گا۔محمد باقر قالیباف نے زور دیا کہ ایران عالمی بحری قوانین کے تحت اپنی ذمہ داریاں ادا کرتا رہے گا اور خطے میں جہاز رانی کے تحفظ کے لیے تعاون جاری رکھے گا۔ویڈیو بیان میں انہوں نے بتایا کہ سوئٹزرلینڈ مذاکرات میں آبنائے ہرمز، لبنان، ایرانی تیل کی فروخت اور منجمد اثاثوں سے متعلق معاملات پر اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ ان کے مطابق 12 ارب ڈالر کے ایرانی منجمد اثاثوں کی بحالی پر بھی معاہدہ طے پا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کی محفوظ آمد و رفت اور ممکنہ کشیدگی سے بچاؤ کے لیے ایک رابطہ نظام قائم کرنے پر بھی اتفاق ہوا ہے۔قالیباف کے مطابق مذاکرات میں لبنان کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کی ضمانت پر بھی اتفاق ہوا ہے، تاہم ان معاملات کو مکمل شکل دینے کے لیے مزید سفارتی کوششوں کی ضرورت ہے۔