رانا ثنا اللہ جلد مذاکرات کی راہ ہمور بیرسٹر گوہر
ملک کی سب سے بڑی سیاسی قوت کو سائیڈ لائن کرکے آگے نہیں بڑھ سکتے، درخواست ہے بانی سے ملاقات ہونے دیں، تو ہی حالات بہتر ہوں گے؛ چیئرمین،صوبے کا بجٹ پاس کرنا آئینی ذمہ داری تھی، وفاق کو پیسے بانی پی ٹی آئی سے مشاورت کے بغیر نہیں دیں گے:رہنما پی ٹی آئی
اسلام آباد ( خصوصی رپورٹ ) پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا ہے کہ حکومت سے کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے لیکن ہم میز پر بیٹھنے کے بہت قریب ہیں، کسی کو مائنس نہیں کیا جا سکتا۔ پارلیمنٹ ہا ئوس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے حکومت کے ساتھ مذاکرات، عمران خان اور بشریٰ بی بی کی جیل میں صورتحال، اور انسدادِ دہشت گردی عدالتوں کے حالیہ فیصلوں پر پارٹی کا تفصیلی م ئوقف پیش کر دیا۔بیرسٹر گوہر نے سیاسی جمود پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم حکومت کے ساتھ مذاکرات چاہتے ہیں، لیکن اس وقت کسی بھی فرنٹ پر حکومت کے ساتھ ہماری کوئی بات چیت نہیں ہو رہی، تاہم مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کے ہم بہت قریب پہنچ چکے ہیں، آپ ملک کی سب سے بڑی سیاسی قوت کو سائیڈ لائن یا کسی کو بھی مائنس کر کے آگے نہیں بڑھ سکتے۔پی ٹی آئی چیئرمین نے مقتدر حلقوں اور انتظامیہ سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ میری تمام لوگوں سے درخواست ہے کہ عمران خان سے ان کی فیملی کی ملاقات ہونے دیں، اور میری بھی بطور چیئرمین ملاقات ہونے دی جائے، ملاقاتیں ہوں گی تو ہی حالات میں بہتری آئے گی، ہمیں بشریٰ بی بی کی صحت کے بارے میں بہت زیادہ تشویش ہے۔انسدادِ دہشت گردی عدالتوں کی جانب سے پی ٹی آئی رہنما ئوں کو سنائی جانے والی حالیہ سزا ئوں پر بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ان فیصلوں سے سیاسی تلخیوں اور نفرتوں میں مزید اضافہ ہوگا، ڈاکٹر یاسمین راشد، میاں محمود الرشید، اعجاز چوہدری اور عمر سرفراز چیمہ نے ہمیشہ ملک و قوم کی خدمت کی ہے، ہماری عدالتوں سے استدعا ہے انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں اور ایسے فیصلوں سے گریز کیا جائے جو سیاسی کشیدگی اور قومی تقسیم میں اضافے کا باعث بنیں۔روایتی سیاسی انتقامی کارروائیوں کو نشانہ بناتے ہوئے ان کا یہ کہنا تھا کہ پاکستان میں شروع سے ہی جیلوں میں ڈالنے کی ایک بڑی عجیب قسم کی سیاست رہی ہے، جس کی میں نے کسی بھی دور میں اور کسی صورت حمایت نہیں کی، سیاست میں رواداری، اخلاقیات اور عوامی خدمت ہونی چاہئے، لوگوں کو اٹھا کر جیلوں میں بند کر دینے سے ملک اور قوم کی کوئی خدمت نہیں ہوسکتی۔ تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر نے کہا ہے کہ حکومت نے مذاکرات کی بات کی لیکن بات چیت شروع نہیں ہوئی۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ ہم جمہوریت، آزاد الیکشن کمیشن اور لیول پلیئنگ فیلڈ چاہتے ہیں۔سابق اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ صوبے کا بجٹ پاس کرنا آئینی ذمہ داری تھی، وفاق کو پیسے بانی پی ٹی آئی سے مشاورت کے بغیر نہیں دیں گے۔اسد قیصر نے کہا کہ انتقامی کارروائیاں بھی بند ہوں، ان مسائل پر بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔انہوں نے کہاکہ تمام ارکانِ صوبائی اسمبلی پی ٹی آئی کے وفادار ہیں، ناراض ارکان کے خدشات کو دور کر رہے ہیں۔ پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ ناراض ارکان کی بیرسٹر گوہر اور جنید خان سے میٹنگ ہوئی، وزیرِ اعلیٰ کے پی سہیل آفریدی کے پاس مذاکرات کا اختیار نہیں، مذاکرات کا اختیار بانی پی ٹی آئی نے محمود اچکزئی اور علامہ ناصر کو دیا ہے۔