بارہ نشستیں:تاریخ کانامکمل باب

سمیع اللہ ملک(آخری قسط)
سیاسی قیادت کی چند غلطیوں نے اس مسئلے کوسلجھانے کی بجائے مزیدپیچیدہ بنادیا۔یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ بعض رہنماں نے خود اس بات کوتسلیم کیاکہ معاملے کودرست اندازمیں نہیں سنبھالاگیا۔یہ اعتراف گویاایک آئینہ ہے جس میں سیاسی بے بصیرتی کی جھلک صاف دکھائی دیتی ہے۔بعض رہنماں نے اس بات کوتسلیم کیاکہ معاملہ ’’مس ہینڈل‘‘ہوا۔یہ اعتراف گوکہ دیرسے آیا،مگراس نے حقیقت کا پردہ ضرورچاک کیا۔یہ وہ مقام تھاجہاں تدبرکی کمی نے بحران کوجنم دیا۔
مہاجرین کی ایک تاریخی حیثیت ہے اورپاکستان میں بسنے والے مہاجرین جہاں تاریخ کے امین ہیں وہاں ان  کی نمائندگی، یک تاریخی ذمہ داری بھی ہے۔مہاجرین کی  یہ نشستیں محض سیاسی مراعات نہیں بلکہ ایک تاریخی عہدکاتسلسل ہیں۔یہ نشستیں ان لوگوں کی یادگار ہیں جنہوں نے تاریخ کے کڑے امتحان جھیلے۔ان لوگوں کی نمائندگی جوہجرت کے کرب سے گزرکریہاں پہنچے،ایک اخلاقی ذمہ داری بھی ہے اورایک قومی عہدبھی۔مہاجرین وہ طبقہ ہیں جوتاریخ کے جبرکاشکارہوکر یہاں پہنچے۔ان کی نمائندگی کاسوال محض سیاسی نہیں بلکہ اخلاقی اورتاریخی ذمہ داری بھی ہے۔ان کی نمائندگی کوکم یاختم کرنامحض سیاسی فیصلہ نہیں بلکہ ایک تاریخی ذمہ داری کا سوال ہے۔سیاست میں تاخیر اکثربحران کوجنم دیتی ہے۔ اگر بروقت مذاکرات ہوتے توشاید ڈیڈلاک سے بچاجاسکتاتھا۔حالات اس نہج تک نہ پہنچتے۔ ہرمسئلے کاایک مناسب وقت ہوتاہے ۔ جب وہ وقت گزرجائے توحل مشکل ہوجاتا ہے۔یہی صورتحال یہاں بھی پیداہوئی۔سیاست میں تاخیر اکثربحران کوجنم دیتی ہے۔
سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پرالزام تراشی میں مصروف رہیں اورایک دوسرے پرانگلیاں اٹھاتی رہیں،مگرمسئلہ اپنی جگہ برقراررہا گویامرض بڑھتاگیاجوں جوں دواکی۔سیاسی میدان میں الزام تراشی ایک عام رویہ ہے،مگراس سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ مزید الجھتے ہیں۔یہ وہ کیفیت تھی جسے اہلِ دانش ’’دورِ باطل ‘‘سے تعبیرکرتے ہیں۔ ہرفریق نے ریاستی مفادکانعرہ بلندکیا،مگراس کے پسِ پردہ جماعتی ترجیحات بھی کارفرمارہیں اورہرجماعت نے خودکوریاستی مفادکا علمبردارقراردیامگرریاستی مفادکی تعریف ہرجماعت کے نزدیک مختلف رہی،جس نے اتفاقِ رائے کومشکل بنادیا۔
ابتدائی مرحلے میں عوامی جذبات کوسنجیدگی سے نہ لیناایک بڑی کوتاہی اورغلطی ثابت ہوئی جس نے بعد میں بحران کوجنم دیا۔تاریخ گواہ ہے کہ عوامی تحریکوں کودبایانہیں جاسکتا ، صرف سمجھاجاسکتاہے۔عوامی جذبات کونظراندازکرناہمیشہ مہنگاپڑتاہے۔فیصلوں کا مرکزجب زمینی حقیقت سے دورہوتومسائل کی اصل نوعیت سمجھ میں نہیں آتی۔فیصلوں کامرکز اسلام آبادمیں ہونامقامی مسائل کی تفہیم میں رکاوٹ بنا۔مقامی قیادت خودکوبے اختیارمحسوس کرتی رہی۔یہی وجہ ہے کہ زمینی حقائق اکثرنظراندازہوجاتے ہیں۔عوامی تحریک کوخطرہ سمجھ کراس پرسخت ردعمل دینامسئلے کومزیدگہرا،سنگین اورپیچیدہ بنادیتاہے۔یہی کچھ یہاں بھی ہوا۔جب کسی سیاسی مسئلے کوسکیورٹی کے چشمے سے دیکھاجائے تواس کاحل مزیددورہو جاتا ہے۔یہی زاویہ اس بحران میں بھی غالب رہااورجس نے فاصلوں کوبڑھادیاہے۔
یہ تنازع آنے والے برسوں میں سیاسی منظرنامے کوبدل سکتاہے اورمستقبل کی سیاست پرگہرے اثرات مرتب کرے گا۔یہ تنازع مستقبل میں نئی سیاسی قوتوں کوبھی جنم دے سکتا ہے،جوروایتی سیاست سے ہٹ کرایک مختلف راستہ اختیار کریں گی اوریاد رکھیں کہ نئی قیادت کے ابھرنے اورپرانی صف بندیاں ٹوٹنے کے امکانات بھی اسی بحران کی کوکھ سے جنم لے سکتے ہیں۔
نوجوان نسل اس بحران کومحض ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک تجربہ سمجھتی ہے،جواس کے سیاسی شعورکوتشکیل دے رہاہے۔ریاستی طاقت اوراقدامات کے استعمال نے ایک ایسی نسل کوجنم دیا ہے جس کے اندربے چینی اورسوالات کی کثرت ہے اوراس کے اندربے چینی غصہ اوراضطراب موجزن ہے۔اس غصہ ،بے چینی پردانش سے قابو نہ پایاگیاتومستقبل میں مختلف صورتوں میں اپنااظہارکرے گی۔اگرچہ فضاکشیدہ ہے،مگرمذاکرات کی امیدابھی باقی ہے۔یہی امیدکسی بھی بحران کے خاتمے کی پہلی سیڑھی ہوتی ہے۔
ہربحران کاحل مکالمہ ہے،اوریہی واحدراستہ یہاں بھی دکھائی دیتاہے۔اگرچہ کمیٹی کالعدم قراردی جاچکی ہے،مگرمذاکرات کی ایک دھندلی سی امید باقی ہے اوریہی امیدسیاست کا آخری سہاراہوتی ہے۔مظاہرین کی جانب سے رکھی گئی شرائط دراصل جہاں اعتماد کی کمی کااظہارہیں،وہاں اعتمادکی بحالی کی کوششیں بھی نظرآرہی ہیں،جوکسی بھی مذاکراتی عمل کیلئے ناگزیرہوتی ہے۔اس موقع سے بھرپورفائدہ اٹھانے کی اشدضرورت ہے۔حکومت کی جانب سے بات چیت کی آمادگی ایک مثبت اشارہ ہے،مگرسیاسی اختلافات اس راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔حکومت کی آمادگی کے باوجودسیاسی اختلافات اس عمل کوسست کررہے ہیں جس کی طرف فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔۔
وفاقی اورمقامی قیادت کے درمیان اختلاف اورمختلف آرااس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ مسئلہ صرف عوامی نہیں بلکہ ادارہ جاتی بھی ہے اوریہ مسئلہ کئی سطحوں پرموجودہے۔یہ واضح ہے کہ کسی بھی حل کیلئے آئینی ترامیم درکارہوں گی۔کسی بھی دیرپاحل کیلئے آئینی تقاضوں کوپوراکرناضروری ہے۔جذباتی فیصلے وقتی سکون تودے سکتے ہیں مگردیرپااورپائیدارحل نہیں ہوتے۔ضرورت اس امرکی ہے کہ فوری طورپرمشترکہ کمیشن تشکیل دیکرمتفقہ اوردیرپاممکن حل تلاش کیاجائے جس پرعوام کی خواہشات کوترجیح دی جائے۔وگرنہ طاقت کے بل بوتے پرفیصلے وقتی ثابت ہوتے ہیں۔
آخرکاریہی حقیقت سامنے آتی ہے کہ مسائل کاحل طاقت نہیں بلکہ مکالمہ ہے۔تاریخ کے ہرموڑپریہی ثابت ہواہے کہ بات چیت ہی وہ پل ہے جوفاصلے کم کرتاہے۔تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بھی میزپرختم ہوتی ہیں۔آخرکاریہی حقیقت سامنے آتی ہے کہ طاقت کے استعمال سے مسائل دب توسکتے ہیں مگرحل نہیں ہوتے۔حل صرف مکالمے میں پوشیدہ ہے۔
یہ تنازع ایک آئینہ ہے جس میں ریاست، سیاست اور عوام کے چہرے نمایاں ہیں۔اگراس آئینے کوتوڑدیاگیاتوعکس بھی بکھرجائے گا۔یہ تنازع ایک آزمائش بھی ہے سیاسی قیادت کیلئے بھی اورریاستی ڈھانچے کیلئے بھی۔یہ محض ایک سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ ایک فکری آزمائش ہے۔بصیرت،تدبر،تحمل اورمکالمے کے ذریعے اس بحران کوحل کیاجائے تویہ ایک نئے باب کاآغازہوسکتاہے،ایک نئی راہ کھول سکتاہے۔بصورتِ دیگریہ ایک ایسازخم بن سکتاہے جووقت کے ساتھ گہرااورایک دائمی بحران میں تبدیل ہوسکتاہے۔ہربحران اپنے اندر یک پیغام چھپائے ہوتاہے،ایک ایسا پیغام جوصرف ان لوگوں پرآ شکار ہوتا ہے جو سے محض ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک تجربہ سمجھ کر س سے سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مہاجرین کی بارہ نشستوں کا تنازع بھی اسی نوعیت کا یک امتحان ہے،جس میں ریاست،سیاست اورعوام تینوں کواپنے کردارکاازسرنوجائزہ لینے کی ضرورت ہے۔
اس تنازع نے ایک اوراہم حقیقت کوبھی بے نقاب کیاہے کہ ریاستی مفادکاتصورجب تک عوامی مفادسے ہم آہنگ نہ ہو،وہ اپنی معنویت کھودیتاہے۔ریاستیں صرف طاقت کے بل پرقائم نہیں رہتیں بلکہ اعتماد،انصاف اورشفافیت ان کی بنیادہوتے ہیں۔جب عوام اپنے آپ کو فیصلوں سے کٹاہوامحسوس کریں توفاصلے بڑھ جاتے ہیں،او یہی فاصلے بالآخربحران کوجنم دیتے ہیں۔مہاجرین کی نمائندگی کاسوال محض ایک سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ ایک اخلاقی ذمہ داری بھی ہے۔یہ ان لوگوں کے ساتھ کیے گئے ایک تاریخی وعدے کاتسلسل ہے جنہوں نے اپنی زمینیں ، اپنے گھراوراپنی پہچان قربان کرکے ایک نئے مستقبل کی امیدمیں ہجرت کی۔ان کی آوازکوکمزورکرنایانظراندازکرنادراصل اس وعدے سے انحراف کے مترادف ہے۔
یہ محض ایک تنازع نہیں بلکہ ایک موقع بھی ہے ،ایک ایساموقع جس کے ذریعے ریاست اورعوام کے درمیان اعتمادکی نئی بنیادرکھی جاسکتی ہے۔اگراس موقع کوضائع کردیاگیاتویہ ایک ایسازخم بن سکتاہے جووقت کے ساتھ گہراہوتاجائے گا۔لیکن اگراسے دانشمندی سے سنبھالاگیاتویہی بحران ایک روشن مستقبل کی بنیادبھی بن سکتاہے۔یہی اس پورے معاملے کاسب سے بڑا سبق ہے:ریاستیں طاقت سے نہیں بلکہ اعتماداورانصاف سے قائم رہتی ہیں اورقومیں وہی ترقی کرتی ہیں جواپنے اختلافات کومکالمے میں ڈھال لیتی ہیں،اورتاریخ انہی کویادرکھتی ہے جوبحرانوں کومواقع میں بدلنے کاہنرجانتی ہیں۔اوریہی اس مسئلے کااصل سبق ہے۔یہ رپورٹ محض ایک تجزیہ نہیں بلکہ سوچنے،سمجھنے اورسنبھلنے کی ایک فکری دعوت ہے۔