سمیع اللہ ملک(پہلی قسط)
تاریخ کے اوراق جب پلٹے جاتے ہیں توکچھ ابواب محض واقعات کی ترتیب نہیں ہوتے بلکہ وہ انسانی شعور،اجتماعی یادداشت اورقومی شناخت کی تشکیل کے بنیادی ستون بن جاتے ہیں۔یہ وہ لمحات ہوتے ہیں جہاں فیصلے صرف حال کیلئے نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے فکری افق کوبھی متعین کرتے ہیں۔قوموں کی زندگی میں بعض تنازعات وقتی نہیں ہوتے،بلکہ وہ صدیوں پرمحیط ایک فکری اورتہذیبی تسلسل کاحصہ بن جاتے ہیں۔یہی وہ نازک موڑہوتے ہیں جہاں سیاست،تاریخ اورجذبات ایک دوسرے میں مدغم ہوکرایک ایسی حقیقت تشکیل دیتے ہیں جسے محض اعدادوشماریارسمی بیانات کے ذریعے نہیں سمجھاجاسکتا۔
ریاستی ڈھانچے میں نمائندگی کاتصوربظاہرایک انتظامی معاملہ دکھائی دیتاہے،مگرحقیقت میں یہ ایک گہراآئینی اوراخلاقی معاہدہ ہوتا ہے۔یہ معاہدہ نہ صرف اقتدارکی تقسیم کومنظم کرتا ہے بلکہ ایک قوم کے ماضی،اس کی قربانیوں اوراس کے اجتماعی خوابوں کوبھی آئینی حیثیت دیتاہے۔یہی وجہ ہے کہ جب نمائندگی کے سوالات جنم لیتے ہیں تووہ محض نشستوں کی گنتی تک محدودنہیں رہتے بلکہ وہ شناخت،انصاف اورحقِ خودارادیت جیسے بنیادی تصورات سے جڑجاتے ہیں۔
آزاد کشمیرمیں مہاجرین کی بارہ نشستوں کاتنازع بھی اسی نوعیت کاایک پیچیدہ اورحساس مسئلہ ہے۔یہ تنازع صرف ایک سیاسی اختلاف نہیں بلکہ ایک ایسی فکری کشمکش ہے جس میں ماضی کی بازگشت اورمستقبل کی سمت دونوں شامل ہیں۔یہ ان لوگوں کی نمائندگی کا سوال ہے جوتاریخ کے جبرکاشکارہوکراپنی زمینوں سے جداہوئے،جنہوں نے ہجرت کے کرب کو جھیلا،اورجن کی قربانیاں ایک اجتماعی تاریخ کاحصہ بن چکی ہیں۔ ان کی نمائندگی کومحض ایک عددی معاملہ سمجھنادراصل اس تاریخی حقیقت سے چشم پوشی کے مترادف ہے۔
یہ مسئلہ اس وقت مزیدسنگین صورت اختیارکرگیاجب اختلافِ رائے سڑکوں پرآگیا اورمظاہروں نے تصادم کی شکل اختیارکرلی۔یہ وہ لمحہ تھاجہاں الفاظ کی جگہ لاٹھی نے لے لی،اور مکالمے کی جگہ طاقت کااستعمال غالب آگیا۔جب کسی مسئلے کوسننے اورسمجھنے کی بجائے دبانے کی کوشش کی جائے تووہ مزیدشدت اختیارکرلیتاہے۔یہی کچھ یہاں بھی ہوا،جہاں ایک جائزمطالبہ رفتہ رفتہ ایک عوامی بحران میں تبدیل ہوگیا۔سیاسی عدم استحکام نے اس مسئلے کومزیدالجھادیا۔ قیادت کی باربارتبدیلی اورپالیسیوں کاتسلسل نہ ہونااس امرکاغمازہے کہ ریاستی سطح پراس مسئلے کووہ سنجیدگی نہیں دی گئی جس کایہ متقاضی تھا۔گویاایک ایسی کشتی تھی جس کے ملاح بارباربدلتے رہے،مگرسمت کا تعین نہ ہوسکا۔نتیجتًا مسئلہ حل ہونے کے بجائے وقت کی دھول میں مزیددھندلاگیا۔
یہ رپورٹ اسی پیچیدہ اور کثیر جہتی مسئلے کوسمجھنے کی ایک کوشش ہے۔اس کامقصد محض واقعات کی فہرست پیش کرنانہیں بلکہ ان عوامل کاتجزیہ کرناہے جواس تنازع کی بنیادبنے۔یہ ایک فکری دعوت بھی ہے سوچنے کی،سمجھنے کی،اوراس امرکاادراک کرنے کی کہ ریاستی فیصلے کس طرح عوامی جذبات،تاریخی حقائق اورسیاسی مفادات کے درمیان توازن قائم کرتے ہیں یا اس میں ناکام ہو جاتے ہیں۔
تاریخ کے اوراق میں بعض تنازعات محض سیاسی اختلاف نہیں ہوتے بلکہ وہ قوموں کے اجتماعی شعور، شناخت اورمستقبل کے رخ کاتعین کرتے ہیں۔ہرعہداپنے سوالات کے ساتھ جنم لیتاہے،اورکچھ سوالات ایسے ہوتے ہیں جومحض وقتی نہیں بلکہ تہذیبی وتاریخی تسلسل کاحصہ بن جاتے ہیں۔ریاستی ڈھانچے میں نمائندگی محض نشستوں کی تقسیم نہیں بلکہ ایک ایساعہد نامہ ہوتی ہے جوتاریخ،شناخت اوراجتماعی حافظے کوآئینی صورت دیتاہے۔مہاجرین کی بارہ نشستوں کاتنازع بھی اسی قبیل کاایک پیچیدہ سوال ہے،جس میں نمائندگی کی معنویت،ریاستی اختیارکی حدوداورعوامی امنگوں کی ترجمانی ایک دوسرے سے گتھم گتھانظرآتی ہیں۔
آزادکشمیرمیں مہاجرین کی بارہ نشستوں کامسئلہ بھی ایساہی ایک پیچیدہ قضیہ ہے جس نے سیاست،ریاست اورسماج کے مابین ایک نازک توازن کوچیلنج کردیاہے۔یہ محض نشستوں کی تعدادکاجھگڑانہیں بلکہ نمائندگی،اختیاراوربیانیے کی جنگ ہے۔یہ محض عددی ردوبدل کا معاملہ نہیں بلکہ ایک ایساآئینی واخلاقی قضیہ ہے جس میں ماضی کی بازگشت اورمستقبل کی آہٹ دونوں شامل ہیں۔کشمیرکے مہاجرین کی نشستوں کامعاملہ اسی آئینی وعدے کی تعبیروتشریح کامسئلہ بن چکاہے،جہاں ہر فریق اپنی تعبیر کوحق اوردوسرے کی تاویل کو انحراف قراردیتاہے۔
حالیہ مہینوں میں یہ معاملہ اس وقت شدت اختیارکرگیاجب مظاہرین اورحکومتی فورسزکے درمیان تصادم نے فضاکومکدرکردیا۔یوں محسوس ہوتاہے کہ اختلافِ رائے کی چنگاری کو سیاسی بے تدبیری نے شعلہ بنادیا۔جب اختلافات مکالمے کی میزسے اٹھ کرسڑکوں پرآ جائیں تووہ اپنے ساتھ صرف نعرے نہیں بلکہ اضطراب،بے چینی اورکبھی کبھی خون کی سرخی بھی لے آتے ہیں۔ابتدامیں جوآواز مطالبے کی صورت میں ابھری،وہ رفتہ رفتہ احتجاج میں ڈھلی اورپھرتصادم کی شکل اختیارکرگئی۔یہ وہ مرحلہ تھاجہاں مکالمے کی زبان خاموش اورلاٹھی کی زبان گویاہوگئی،اوریوں مسئلہ اپنے اصل مقصدسے ہٹ کرایک طاقت آزمائی بن گیا۔حالیہ جھڑپوں نے اس تنازع کومحض سیاسی بحث سے نکال کرایک عوامی بحران میں تبدیل کردیا،جہاں ریاستی طاقت اورعوامی ردعمل آمنے سامنے کھڑے دکھائی دیے۔
سیاسی عدم استحکام کسی بھی مسئلے کوسلجھانے کی بجائے مزیدالجھادیتاہے۔باربارقیادت کی تبدیلی اورجماعتی اتارچڑھانے اس معاملے کوپسِ پشت ڈالے رکھا،گویاکشتی کابادبان بار باربدلتارہامگرسمت کاتعین نہ ہوسکا۔جب اقتدارکی کشتی باربارملاح بدلتی ہے تو منزل دھندلاجاتی ہے۔یہی کیفیت یہاں بھی دکھائی دی،جہاں قیادت کی غیریقینی نے مسئلے کوپس منظر میں دھکیل دیااوروقت کی دھول نے اسے مزیدالجھادیا۔
ستمبر2025کے معاہدے کے بعدحکومت کے پاس مسئلے کے حل کیلئے مناسب وقت موجودتھا،مگرداخلی سیاسی عدم استحکام خصوصا ًبارباروزرائے اعظم کی تبدیلی نے توجہ کومنتشر رکھا ۔ گویاکشتی کے ملاح خودسمت کے تعین میں الجھے رہے۔سیاسی میدان میں حقیقت اکثر انیوں کے ہجوم میں گم ہوجاتی ہے۔ایک فریق اسے سازش قراردیتاہے تودوسرااجتما عی مفاد کا نام دیتاہے۔یوں سچائی ایک ایسے آئینے کی مانندہوجاتی ہے جس پرہرکوئی اپنی پسندکاعکس دیکھتاہے۔ہرسیاسی جماعت نے اس مسئلے کواپنے زاویے سے بیان کیا، گویاایک ہی حقیقت کئی رنگوں میں بکھرگئی۔کوئی اسے عوامی حق کہتارہا،کوئی ریاستی ضرورتاوریوں اصل سوال پس منظرمیں چلا گیا۔امیدواروں کاالزام ہے کہ نشستوں کے خاتمے کی تجویزایک سوچی سمجھی سازش کے تحت شامل کی گئی،جبکہ حکومتی مؤقف اسے اجتماعی سیاسی سوچ قراردیتاہے۔حقیقت شایدان دونوں بیانیوں کے درمیان کہیں دب کررہ گئی ہے۔
یہ امرحیران کن ہے کہ خطرات کاادراک ہونے کے باوجودبروقت اقدامات نہ کیے گئے۔حکومت کوتصادم کاخدشہ تھا،مگراس کے باوجود اقدامات نہ کیے جائیں تویہ محض کوتاہی نہیں بلکہ ایک طرح کی غفلت شمارہوتی ہے۔حکومت کوحالات کی نزاکت کاادراک تھا،مگر عملی تدبیرکے فقدان نے بحران کوجنم دیا۔گویاعلم تھامگر عمل نہ تھا،اوریہی فاصلہ بحران کی بنیادبن گیا۔یہ وہ لمحہ تھاجہاں تدبرکی جگہ تقدیرپرچھوڑدیاگیا،اورنتیجتاحالات بگڑتے گئے۔سیاسی اصلاحات کاتصورہمیشہ دلکش ہوتاہے،مگراس کااطلاق اتفاقِ رائے کامحتاج ہوتاہے۔ متناسب نمائندگی کی تجویزایک جدیدسیاسی حل کے طورپرپیش کی گئی جس سے اک نئی راہ کاتصورکھل سکتاتھا،مگراس کیلئے سیاسی اتفاقِ رائے کافقدان رہا۔گویاہرفریق اپنی بساط کے مطابق شطرنج کھیل رہاتھاگویاجس وسعتِ نظرکی ضرورت تھی،وہ سیاسی افق پرکم یاب رہی۔یادرہے کہ سیاسی فکرمیں نئے تصورات ہمیشہ امیدکی کرن ہوتے ہیں،مگرجب انہیں قبولیت نہ ملے تووہ محض کاغذی خاکہ بن کررہ جاتے ہیں۔متناسب نمائندگی کاخیال بھی اسی انجام سے دوچارہوا۔
جہاں جمہوری معاشروں میں احتجاج ایک حق ہے وہاں احتجاج جمہوری معاشروں کاحسن بھی ہے،مگراس کی حدودبھی ہیں۔جب یہ حدودپامال ہوں،اوراس میں تشدددرآئے تویہ حق جہاں خوداپنی ساکھ کھودیتاہے وہاں اپنے مقصدسے دورہوجاتاہے اوریہی کشمکش یہاں بھی نظرآئی۔یہی وہ مقام ہے جہاں حق اورذمہ داری کے درمیان توازن قائم کرناناگزیر ہو جاتاہے۔احتجاج کے حق اورتشددکے درمیان لکیر دھندلاگئی۔ایک طرف عوامی غصہ تھا،دوسری طرف ریاستی رٹاوردونوں کے درمیان مکالمہ گم ہوگیا۔ریاستی مفادکاتصورایک مقدس اصطلاح ہے،مگرجب اس کی تعبیرسیاسی مفادات کے تابع ہوجائے تواس کی معنویت مجروح ہوجاتی ہے۔ ہرجماعت خودکوریاستی مفادکانگہبان قرار دیتی ہے،مگرجب مفادکی تعبیرمختلف ہوجائے تووحدت کی جگہ افتراق لے لیتاہے۔اس تنازع میں بھی یہی منظرنمایاں رہا۔یہ دلیل پیش کی گئی کہ یہ مسئلہ سیاست نہیں بلکہ ریاست کاہے،مگرعملاًہرقدم سیاسی مفادات سے رنگاہوا دکھائی دیا۔(جاری ہے)