وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے ایک اہم خطاب پر مبنی ہے، جو کہ اسلام آباد میں کار انداز پاکستان اور پاکستان بینک ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام منعقدہ تقریب میں دیا گیا۔
خبر میں ملکی معیشت، ٹیکس اصلاحات، پالیسی تسلسل، توانائی و نجکاری، اور بین الاقوامی شراکت داری جیسے اہم موضوعات کا احاطہ کیا گیا ہے۔ ذیل میں اس کی اہم تفصیلات دی جا رہی ہیں:
معاشی استحکام اور پالیسی تسلسل
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے زور دیا کہ:جیسے قوم نے بھارتی جارحیت کے وقت اتفاق و اتحاد کا مظاہرہ کیا، ویسا ہی اتحاد معاشی میدان میں درکار ہے۔معاشی استحکام حاصل تو ہوتا رہا ہے، مگر اسے برقرار رکھنے میں ناکامی ہوئی۔اب "اتار چڑھاؤ" کے چکر سے نکلنے کے لیے ڈھانچہ جاتی اصلاحات کا عمل شروع کیا گیا ہے۔
ٹیکس اصلاحات اور ایف بی آر کی ڈیجیٹلائزیشن
ایف بی آر کو مکمل ڈیجیٹلائز کیا جا رہا ہے، جس میں نجی شعبہ قائدانہ کردار ادا کر رہا ہے۔ایف بی آر میں اصلاحات کے لیے پرائیویٹ بورڈ اور چیئرمین کا تقرر ہو چکا ہے۔ٹیکس سسٹم میں شفافیت اور سہولت کو یقینی بنایا جا رہا ہے، خاص طور پر تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس ریٹرن کا عمل آسان بنایا جا رہا ہے۔ٹیکس چوری روکنے کے لیے ٹیکنالوجی کا مؤثر استعمال ہوگا۔
نجکاری اور ادارہ جاتی اصلاحات
توانائی کے شعبے میں اویس لغاری اور علی پرویز ملک سرگرم ہیں۔24 ایس او ایز (سرکاری ادارے) کو نجکاری کمیشن کے سپرد کر دیا گیا ہے۔پی آئی اے کی نجکاری کا عمل دوبارہ شروع ہو گیا ہے، جبکہ تین ڈسکوز کی نجکاری بھی جاری ہے۔
مالیاتی نظم و ضبط اور قرضوں میں کمی
حکومت مالیاتی نظم و ضبط لا رہی ہے۔جاری مالی سال میں قرضوں کی واپسی میں 1 ٹریلین روپے کی کمی ہوئی۔اگلے مالی سال میں ڈیبٹ مینجمنٹ آفس کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے گا۔
آنے والا بجٹ اور اسٹریٹیجک سمت
بجٹ کو صرف حساب کتاب کی دستاویز بنانے کے بجائے اسٹریٹیجک بنایا جائے گا۔اس میں دلیرانہ فیصلے متوقع ہیں تاکہ معیشت کو پائیدار ترقی کی راہ پر ڈالا جا سکے۔
بین الاقوامی تاثر اور تعاون
عالمی سرمایہ کار اور مالیاتی ادارے پاکستان کی معاشی سمت سے مطمئن ہیں۔عالمی بینک اور آئی ایم ایف سے موسمیاتی تبدیلی اور بڑھتی ہوئی آبادی کے تناظر میں اڈاپٹیشن فنانسنگ پر بات چیت ہو رہی ہے۔عالمی بینک کے 10 سالہ کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک میں 6 میں سے 4 نکات انہی دو مسائل سے متعلق ہیں۔
سماجی شعبے اور قوم کی یکجہتی
تعلیم و صحت کے شعبے میں کارپوریٹ سیکٹر کی خدمات قابل تعریف ہیں۔وزیر خزانہ نے کہا کہ جی ڈی پی 400 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔معیشت میں بہتری کے لیے ٹیکس دہندگان کی ذمہ داری اہم ہے، اور معاشی میدان میں بھی قومی اتحاد ضروری ہے۔ یہ تقریر نہ صرف بجٹ 2025-26 کی تیاری کا خاکہ پیش کرتی ہے بلکہ اس میں ملکی معیشت کے طویل مدتی استحکام کے لیے کی جانے والی کوششوں کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔ وزیر خزانہ کا پیغام واضح ہے کہ موجودہ حکومت سنجیدہ اصلاحات کے ذریعے معیشت کو مستحکم بنیادوں پر کھڑا کرنا چاہتی ہے۔