ویب ڈیسک: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران اور اس کے دشمنوں کے درمیان سفارتی عمل کا دروازہ مستقل طور پر بند ہو چکا ہے، اور اب مذاکرات کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو خط
ایرانی وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کو ایک سخت لہجے میں خط لکھا، جس میں انہوں نے کہا:"اقوام متحدہ کی جانب سے بروقت اور مؤثر عملی اقدامات میں ناکامی علاقائی و عالمی بحران کو مزید بڑھا سکتی ہے۔""ایران کے خلاف جارحیت اور اشتعال انگیزی پر عالمی خاموشی خطرناک نتائج کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔""ایران کے دشمنوں کی جانب سے سفارت کاری کی طرف واپسی کی اپیلیں اب غیرمتعلقہ اور بےمعنی ہو چکی ہیں۔"
سفارت کاری کی بندش کا باضابطہ اعلان
عباس عراقچی نے واضح الفاظ میں کہا:"ہم دشمن کے ساتھ سفارتی بات چیت کا دروازہ مکمل طور پر بند کر چکے ہیں۔ ایران اب ردعمل کے مرحلے میں ہے، اور ہم اپنے قومی دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کریں گے۔"
روس کے ساتھ مشاورت
ایرانی وزیر خارجہ نے ان بیانات کے فوراً بعد ماسکو کا ہنگامی دورہ کیا، جہاں انہوں نے کہا:"روس ایران کا قریبی دوست اور قابلِ اعتماد اتحادی ہے۔""ہم صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ موجودہ صورتحال پر سنجیدہ اور تفصیلی مشاورت کریں گے۔""مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کا توازن متاثر ہو رہا ہے اور ایران اپنے دفاع کے لیے سفارتی اور عسکری دونوں سطحوں پر ردعمل دینے کا حق رکھتا ہے۔"
پس منظر
ایران کا یہ موقف اسرائیل اور امریکا کی جانب سے حالیہ حملوں کے بعد سامنے آیا ہے، جن میں ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ اس کے جواب میں ایران نے اسرائیل پر میزائل حملے کیے جبکہ امریکا نے بھی واضح طور پر ایران کے خلاف اپنی عسکری پوزیشن اپنائی ہے۔
ماہرین کی رائے
بین الاقوامی تجزیہ کاروں کے مطابق:ایران کی جانب سے سفارتی عمل ترک کرنا تنازع کو مزید شدید کر سکتا ہے۔روس، چین، اور دیگر ممالک ایران کے ساتھ کھل کر سفارتی اور عسکری روابط بڑھا سکتے ہیں۔اقوام متحدہ پر تنقید کا مطلب یہ ہے کہ ایران اب عالمی اداروں کی ثالثی پر مزید بھروسہ نہیں کر رہا۔