ننکانہ صاحب سے لاہور آنے والی ایک نوجوان لڑکی کو پولیس میں نوکری دلوانے کا جھانسہ دے کر پانچ لاکھ روپے ہتھیا لیے گئے۔
ملزمان نے نہ صرف جعلی وعدے کیے بلکہ متاثرہ لڑکی سے سکیورٹی ڈیوٹی بھی کرواتے رہے۔
جعلی اہلکاروں کا نیٹ ورک؟
تفصیلات کے مطابق، مقدمے میں نامزد ملزمان میں پولیس اہلکار اسد اور لیڈی کانسٹیبل سمیرا شامل ہیں، جنہوں نے لڑکی کو بتایا کہ وہ اسے پولیس فورس میں بھرتی کروا دیں گے۔ذرائع کے مطابق متاثرہ لڑکی قذافی اسٹیڈیم لاہور میں گیمز میں شرکت کے لیے آئی تھی، جہاں ملزمان نے اسے جعلی پولیس یونیفارم اور شناختی کارڈ فراہم کیے اور ایک ماہ تک سکیورٹی ڈیوٹی پر لگائے رکھا۔
نوکری نہ ملی، رقم بھی گئی
ملزمان نے لڑکی سے نوکری دلانے کے عوض پانچ لاکھ روپے نقد وصول کیے، لیکن بعد ازاں نہ تو نوکری دی گئی اور نہ ہی رقم واپس کی گئی۔
پولیس نے مقدمہ درج کرلیا
ذرائع کے مطابق، لڑکی کی جانب سے شکایت موصول ہونے کے بعد پولیس نے باقاعدہ مقدمہ درج کر لیا ہے اور مزید تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے تاکہ ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جا سکے۔
جعلی بھرتی نیٹ ورک پر خدشات
اس واقعے کے بعد خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ لاہور میں جعلی بھرتیوں کا ایک منظم نیٹ ورک سرگرم ہو سکتا ہے، جو دیہی علاقوں سے آنے والے نوجوانوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔
تجزیہ
یہ واقعہ پولیس جیسے حساس ادارے کی ساکھ پر سوالیہ نشان ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے جعلی بھرتی گروہوں کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی کریں تاکہ نوجوانوں کا اعتماد بحال ہو سکے۔