نیویارک : اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا ایران پر امریکی حملوں کے خلاف ہنگامی اجلاس نیویارک میں جاری ہے، جس میں دنیا بھر کے نمائندے موجود ہیں۔
اجلاس کے دوران پاکستانی مندوب عاصم افتخار نے خطاب کرتے ہوئے ایران کے دفاع کے حق کی بھرپور حمایت کی اور مسئلے کا پرامن، مذاکراتی حل نکالنے پر زور دیا۔
پاکستان کا دوٹوک مؤقف
پاکستانی مندوب عاصم افتخار نے اپنے خطاب میں کہا:"ہم سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے پر شکر گزار ہیں۔ گزشتہ اجلاس میں ہم نے خطرناک کشیدگی کے خطرے سے خبردار کیا تھا، بدقسمتی سے امن کی ان اپیلوں کو نظر انداز کر دیا گیا۔"انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے مطابق اصولی مؤقف اپنایا ہے، اور اسرائیلی جارحیت کی کھلے الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔عاصم افتخار نے مزید کہا:"ہم ایران کے دفاع کے حق کی حمایت کرتے ہیں اور ایرانی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ ان حملوں میں آئی اے ای اے (عالمی جوہری توانائی ایجنسی) کے سیکیورٹی پروٹوکول کو بھی نظرانداز کیا گیا، جو عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔"انہوں نے زور دیا کہ:"پاکستان چاہتا ہے کہ موجودہ بحران کا حل سفارتی اور پرامن ذرائع سے نکالا جائے تاکہ خطے میں مزید عدم استحکام سے بچا جا سکے۔"
ایرانی مندوب کا شدید ردِعمل
اجلاس میں ایران کے مندوب نے بھی جذباتی خطاب کیا، جس میں انہوں نے کہا:"ایران کو بین الاقوامی قوانین کے تحت اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے۔ ہم امریکہ کی طرف سے کی گئی جارحیت کی سخت مذمت کرتے ہیں۔"ایرانی مندوب نے واضح کیا:"ایران امریکی حملوں کا جواب دے گا، اور وقت کا تعین ایرانی مسلح افواج خود کریں گی۔ امریکہ نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے دفاع میں اپنی قومی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔"انہوں نے مزید کہا:"ایران نے کئی مرتبہ امریکہ کو جنگ سے باز رہنے کی تنبیہ کی، لیکن ان اپیلوں کو نظر انداز کیا گیا۔ آج امریکہ کی سیاسی تاریخ پر ایک اور سیاہ دھبہ لگ چکا ہے۔"
بین الاقوامی ردعمل
سلامتی کونسل کے دیگر رکن ممالک نے بھی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ چین، روس، ترکی، اور کئی ترقی پذیر ممالک نے امریکی حملوں کی مذمت اور سفارتی حل کی ضرورت پر زور دیا، جب کہ امریکہ اور اس کے چند اتحادیوں نے اپنے مؤقف میں ایران کو خطے میں "غیر مستحکم کرنے والا کردار" قرار دیا۔
تجزیہ: سفارت یا جنگ؟
موجودہ صورتحال عالمی امن کے لیے انتہائی نازک موڑ پر ہے۔ پاکستان جیسے ممالک کا غیرجانبدار اور اصولی مؤقف اقوامِ عالم میں سفارتی راستے کو ترجیح دینے کی امید کو تقویت دے رہا ہے۔