بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر فائرنگ کے افسوسناک واقعے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اپنے گن مین سمیت شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق واقعہ اس وقت پیش آیا جب سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے۔ راستے میں نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی کو نشانہ بنایا اور فائرنگ کر دی۔فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کا گن مین موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد زخمی ہوئے۔واقعے کے فوری بعد لاشوں اور زخمیوں کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں زخمی افراد کا علاج جاری ہے۔ڈی پی او مستونگ کے مطابق سیشن جج اور ایڈیشنل سیشن جج کوئٹہ سے سیشن کورٹ مستونگ آ رہے تھے کہ راستے میں انہیں نشانہ بنایا گیا۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے ناکہ بندی کر دی گئی ہے۔
حکام کے مطابق حملے کے محرکات کا تعین کیا جا رہا ہے جبکہ واقعے کی تحقیقات بھی شروع کر دی گئی ہیں۔دوسری جانب حکومت بلوچستان نے مستونگ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے واقعے میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دیا ہے۔ صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی اور ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔واقعے کے بعد بلوچستان میں سیکیورٹی صورتحال کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، جبکہ عدالتی و حکومتی حلقوں نے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔