ایران کے پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اردن میں واقع امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بناتے ہوئے متعدد اہم دفاعی نظام اور عسکری تنصیبات کو تباہ کر دیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے سرکاری ٹی وی پر نشر کیے گئے ایک بیان میں کہا کہ کارروائی کے دوران اردن میں موجود امریکی فوجی اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا۔بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ حملے کے نتیجے میں امریکی تھاڈ (THAAD) میزائل دفاعی نظام کا ریڈار، پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام، سی ریم (C-RAM) ریڈار اور ایک ہیلی کاپٹر ہینگر تباہ کر دیا گیا۔ایرانی حکام کے مطابق یہ کارروائی خطے میں حالیہ کشیدگی کے تناظر میں کی گئی، تاہم حملے کے وقت، مقام، استعمال ہونے والے ہتھیار یا ممکنہ جانی نقصان سے متعلق مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔دوسری جانب امریکی حکام اور اردن کی حکومت کی جانب سے فوری طور پر ایران کے ان دعوؤں کی نہ تو تصدیق کی گئی ہے اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے آیا ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ایران کے دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق ہو جاتی ہے تو اس سے مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔ تاہم فی الحال اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کے باعث عالمی برادری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، جبکہ مختلف ممالک کشیدگی میں کمی اور سفارتی حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔