خواجہ آصف کشمیریوں کے بارے بیان واپس لیں‘ ایسا نہیں کرتے تو اسے وفاقی حکومت کی پالیسی سمجھا جائے گا، ن لیگ والے جب مشکل میں ہوتے ہیں تو پائوں پکڑتے جب اقتدار میں ہوں تو گریبان پکڑتے ہیں
کشمیر کا فیصلہ پنجاب اور سندھ نہیں صرف کشمیر کرے گا‘ حق حاکمیت حق ملکیت ، حق روزگار یہ حقوق گلگت بلتستان کے عوام کو دلوا کر دکھاوں گا‘ آزادکشمیر کو وہ حقوق دلوانا چاہتا ہوں جو پاکستان اور بھارت کے عوام کے پاس ہیں
آزادکشمیر کا کیس این ایف سی فورم پر لے جانا چاہتا ہوں ‘ آزادکشمیر کے عوام اب پرانی تنخواہ پر چلنے کے لئے تیار نہیں‘ احتجاج کرنے والے ناراض ہیں تو اس کی سزا آزاد کشمیر کے عوام کو نہ دی جائے:میر پور میں جلسہ سے خطاب
میرپور (آن لائن) چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے خواجہ آصف کے کشمیریوں بارے بیان کو واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوے کہا ہے اگر یہ ایسا نہیں کرتے تو اسے وفاقی حکومت کی پالیسی سمجھا جائے گا ۔ ن لیگ والے جب مشکل میں ہوتے ہیں تو پاوں پکڑتے جب اقتدار میں ہوں تو گریبان پکڑتے ہیں ۔ چار بار وزیراعظم بننے والا شخص اب آزادکشمیر کا وزیراعظم بن کر ان سے رہی سہی حق حکمرانی چھیننا چاہتا ہے ۔ جلسے سے خطاب کرتے ہوے انہوں نے کہا کشمیر کا آئندہ الیکشن انتہائی اہم ہے ۔ عوام اس میں اپنے روشن مستقبل کے حق میں فیصلہ کریں ، چاہتا ہوں قانون ساز اداروں میں کشمیری عوام کی نمائندگی ہو۔ انکا اپنا وزیر خارجہ ہو ، این ایف سی فورم پر انکی آواز ہو ۔ کشمیری اپنا حق حاکمیت صرف بارہ سیٹوں کی جدوجہد تک محدود نہ رکھیں ۔ میر پور میں جلسے سے خطاب کرتے ہوں انہوں نے کہا میر پور کو اپنا دوسرا گھر سمجھتا ہوں ۔ یہاں الیکشن مہم کو عام سی بات نہیں سمجھتا ۔ یہ جو الیکشن ہے تاریخ کا اہم ترین الیکشن ہے ۔ اس الیکشن میں آپکا مستقبل ہے ۔ ایسا فیصلہ کرو کہ آزادکشمیر کا مستقبل روشن ہو۔ وسائل میں اضافہ ہو ۔ ایسا فیصلہ کریں کہ ہم مل کر تاریخ رقم کریں ‘میں آ زادکشمیر اور جی بی کے عوام کو انکے حقوق دلوانا چاہتا ہوں ۔ حق حاکمیت حق ملکیت ، حق روزگار یہ حقوق گلگت بلتستان کے عوام کو دلوا کر دکھاوں گا۔ آزادکشمیر کے عوام کو وہ حقوق دلوانا چاہتا ہوں جو پاکستان اور بھارت کے عوام کے پاس ہیں۔ ہم نے اپنے بڑوں کی جدو جہد کو آگے لے کر چلنا چاہتا ہوں ۔ آپ مجھے دو تہائی اکثریت دلوائیں میں آپکو اپکے حقوق دلواوں گا ۔ انہوں نے کہا کہ جو یہ یہ سمجھتے ہیں مہاجرین کی بارہ سیٹیں انکی جیب میں ہیں وہ اپ سے ناانصافی کر رہے ہیں ۔ میں مہاجرین کی نمائندگی ختم کرنے کے حق میں بھی نہیں ہوں لیکن کشمیر کے عوام کا فیصلہ سندھ ، پنجاب یا وفاق کرے یہ بھی قابل برداشت نہیں ہے ۔ انیس سو سینتالیس سے لیکر اب تک آ زادکشمیر صرف انشا اللہ پر چلتا آیا ہے ۔ آپ کا حق حاکمیت صرف بارہ سیٹو ں تک محدود نہیں رہنا چاہیے ۔ آزادکشمیر کے عوام کی آواز فیصلہ ساز اداروں میں ہونی چاہیے ۔ آپ چائیں تو آزادکشمیر کا ایک وزیر خارجہ بنوا دیں جو ہر فورم پر اآپکی نمائیندگی کرے ۔ انہوں نے کہا میں آزادکشمیر کا کیس این ایف سی فورم پر لے کر جانا چاہتا ہوں ۔ میں چاہتا ہوں آزادکشمیر کے عوام کا احتجاج سڑکوں کے بجائے ہر فورم پر انکی نمائندگی ہو ۔ کشمیر کا نمائندہ سینٹ اور اسمبلی میں بھی میں بھی موجود ہونا چاہیے ۔ آزادکشمیر کے عوام اب پرانی تنخواہ پر چلنے کے لئے تیار نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ حتجاج کی وجہ سے کشمیری عوام کو تکیلف پہنچتی ہے ۔کمیشن بننے تک کشمیری عوام کو حتجاج موخر کر دینا چاہیے ۔ حکومت بھی مظاہرین کے خلاف کارروائی روک دے ۔نواز شریف کا دل چاہتا ہے ایسی صلاحات لا ئی جائیں کہ اپنا وزیراعظم لائیں اور آزادکشمیر کے عوام سے رہی سہی حق حکمرانی بھی چھین لیں ۔ یہ چاہتے ہیں جو چار دفعہ وزیر اعظم پاکستان بن چکا وہ ایک بار آزاد کشمیر کا بھی وزیراعظم بنے ۔ انہوں نے کہا ن لیگ والے جب مشکل میں ہوں تو پائوں پکڑتے ہیں اور جب اقتدار میں ہوں تو گریبان پکڑتے ہیں یہ ایسی باتیں کرتے ہیں کہ سوچتا ہوں کچھ کہوں یا نہ کہوں ۔ بلاول نے کہا کہ انہوں جی بی کے عوام کو بھی بڑے بڑے سبز باغ دکھائے لیکن وہ انکی باتوں میں نہ آئے ۔