امریکہ ‘ایرا ن کے ایکدوسرے پر حملے جاری ٹرمپ نے سعودی عرب کیساتھ سول جوہری معاہدے کی منظوری دیدی

جوہری تعاون معاہدے کی میعاد 30 سال تک ہے‘ ممکنہ طور پر سعودی عرب میں یورینیم افزودگی کے دروازے کھل سکتے ہیں:امریکی حکام
امریکہ کا ایرانی فوج کے آپریشنز کے مراکز کو نشانہ بنانے کا دعوی ‘ایران کا کویت میں  نصب ریڈار سسٹم کو تباہ کرنے   کاجوابی   دعوی 
پاکستان، قطر اور مصر کی سفارتی کوششیں‘ 10 روزہ جنگ بندی کی پیشکش‘  امریکہ نے جوہری تنصیبات پر حملہ کیا تو  اتحادیوں کو نشانہ بنایا جائیگا:ایران
واشنگٹن(آئی این پی )امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل نے کہا ہے  امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ سول جوہری پروگرام کے معاہدے کی منظوری دے دی۔ وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق  امریکا کے ساتھ سول جوہری پروگرام کے معاہدے کے تحت سعودی عرب کو توانائی کے شعبے میں جوہری ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔امریکی اخبار کا کہنا ہے کہ  امریکا اور سعودی عرب کے درمیان جوہری تعاون معاہدے کی میعاد 30 سال تک ہے۔امریکی اخبار کے مطابق جوہری تعاون معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہونے کا تخمینہ ہے۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر سعودی عرب میں یورینیم افزودگی کے دروازے کھل سکتے ہیں۔دریں اثناء  امریکی سینٹرل کمانڈ  نے کہا ہے  فوج نے ایران پر مسلسل گیارہویں رات فضائی حملے مکمل کر لئے  جس میں  ایرانی فوجی آپریشنز مراکز، بحری صلاحیتوں، طیاروں کے ہینگرز، ڈرون ذخیرہ گاہوں اور فوجی لاجسٹکس کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایاگیا ہے جبکہایرانی فوج نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے  کویت میں امریکا کے اہم ترین فوجی اڈوں میں سے ایک الدوحہ کیمپ پر ڈرون حملوں اور علی السالم ائیر بیس کے اطراف نصب ریڈار سسٹم کو تباہ کرنے کا دعوی کیاہے‘ امریکی ویب سائٹ ایگزیوس نے دعوی کیا ہے کہ قطر، پاکستان، مصر اور دیگر علاقائی ثالثوں نے امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کم کرنے کے لیے دونوں ممالک کو 10 روزہ جنگ بندی کی تجویز پیش کی ہے، تاہم تاحال کسی بھی فریق نے اس تجویز کو قبول نہیں کیا‘یران کی اعلی مشترکہ عسکری کمان نے خبر دار کیاہے کہ اگر امریکا نے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کیا تو خطے میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کے مفادات کو نشانہ بنایا جائے گا۔ایرانی میڈیارپورٹس کے مطابق خاتم الانبیا بریگیڈ نے کہا ہے کہ جوہری تنصیبات پر حملہ خطے میں جنگ کے پھیلا ئوکا باعث بنے گا