امریکہ ایران کے ایکدوسرے پر حملے بند

 امریکہ اور ایران کے درمیان شدید فضائی اور میزائل حملوں کے بعد دونوں جانب سے وقتی طور پر بندوقیں خاموش ہیں
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وزرائے خارجہ کی سطح پر ہونے والی بات چیت کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان دو روز تک جاری رہنے والے شدید فضائی اور میزائل حملوں کے بعد دونوں جانب سے وقتی طور پر بندوقیں خاموش ہیں۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ثالث ممالک پاکستان، قطر اور عمان کی سفارتی کوششوں کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں کمی واقع ہوئی ہے اور ایک بار پھر امریکا ایران جنگ مذاکرات کی بحالی کی امید پیدا ہوگئی۔ان سفارتی کوششوں سے واقف ایک ذریعہ نے بتایا کہ ثالث ممالک کی کوشش ہے کہ فریقین فوری طور پر مزید حملوں سے گریز کریں اور متنازع امور، خصوصاً آبنائے ہرمز میں جہاز رانی، پابندیوں اور سکیورٹی معاملات پر مذاکرات کی میز پر واپس آئیں۔قبل ازیں امریکا نے مسلسل دو روز تک ایران کے جنوبی علاقوں میں واقع عسکری تنصیبات، میزائل لانچنگ سائٹس، ڈرون مراکز اور دارالحکومت تہران کے قریب بعض اہداف کو نشانہ بنایا۔امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ ایران پر یہ حملے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر ہونے والے حملوں کا جواب ہیں۔ امریکی افواج آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو لاحق خطرات کم کرنے کے لیے ایران کی عسکری صلاحیت کو محدود کردے گی۔