انگلینڈ کے کپتان بین اسٹوکس نے بھارت کے خلاف چوتھے ٹیسٹ سے قبل مانچسٹر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے آئی سی سی کے قوانین، بھارت کی حکمت عملی اور ٹیسٹ کرکٹ کے عالمی نظام پر دبنگ بیانات دے کر ایک بار پھر سوشل میڈیا پر توجہ حاصل کر لی ہے۔
آئی سی سی پر شدید اعتراض
بین اسٹوکس نے آئی سی سی (انٹرنیشنل کرکٹ کونسل) کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے سست اوور ریٹ کے یکساں قوانین پر اعتراض اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا:"آپ ایشیا میں وہی قوانین لاگو نہیں کر سکتے جہاں 70 فیصد اوورز اسپنرز کرواتے ہیں، جبکہ انگلینڈ، نیوزی لینڈ اور دیگر مغربی ممالک میں فاسٹ بولرز زیادہ اوورز کرتے ہیں۔ مختلف کنڈیشنز کے لیے قوانین بھی مختلف ہونے چاہئیں۔"یہ بیان انہوں نے اس تناظر میں دیا کہ لارڈز ٹیسٹ میں سست اوور ریٹ پر ان کی ٹیم کو جرمانہ اور دو پوائنٹس کا نقصان اٹھانا پڑا، حالانکہ میچ جیت چکے تھے۔
انگلینڈ کے WTC پوائنٹس میں کمی
لارڈز ٹیسٹ میں بھارت کو 22 رنز سے شکست دینے کے باوجود انگلینڈ کو سست اوور ریٹ کے باعث دو پوائنٹس کاٹ دیے گئے۔
پہلے پوائنٹس: 24
بعد میں پوائنٹس: 22
تناسب: 66.67% → 61.11%
اس کمی کے باعث انگلینڈ سری لنکا سے نیچے تیسرے نمبر پر چلا گیا ہے۔
بھارت کو وارننگ
پریس کانفرنس میں بین اسٹوکس نے واضح طور پر کہا کہ:"ہم سلیجنگ کی شروعات نہیں کریں گے، لیکن اگر بھارت نے کوئی حرکت کی تو ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔"انہوں نے بھارت کی جانب سے لارڈز ٹیسٹ کے دوران وقت ضائع کرنے پر ناراضی کا اظہار بھی کیا اور کہا کہ انگلینڈ نے اس کے بعد نفسیاتی حکمت عملی سے کھیل کا رخ موڑا۔
اسٹوکس کی کارکردگی نمایاں
بین اسٹوکس کی بطور کپتان حکمت عملی اور آل راؤنڈ پرفارمنس اس سیریز میں نمایاں رہی ہے۔ خاص طور پر بولنگ کے شعبے میں انہوں نے دو اہم میچز میں فتح دلوا کر ٹیم کو برتری دلائی۔
ماہرین کا ردعمل
بین اسٹوکس کے ان بیانات نے نہ صرف شائقین کو متوجہ کیا ہے بلکہ کرکٹ ماہرین میں بھی آئی سی سی کے قانون پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔کئی سابق کھلاڑیوں اور مبصرین نے اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ مختلف کنڈیشنز کے لیے قوانین میں نرمی یا تبدیلی کی ضرورت ہے، خاص طور پر جہاں اسپن اور فاسٹ بولنگ کا تناسب مختلف ہو۔