ویب ڈیسک: پاکستان میں 2020 کے بعد پہلی بار تیل و گیس کے ذخائر میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کا سہرا اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی جانب سے توانائی منصوبوں میں دی گئی معاونت کو جاتا ہے۔
توانائی کے ماہرین اور مالیاتی اداروں کے مطابق ایس آئی ایف سی کی جانب سے سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانے اور مقامی وسائل کو فعال کرنے کی حکمت عملی کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔
ذخائر میں نمایاں بہتری
عارف حبیب رپورٹ کے مطابق ملک میں تیل کے ذخائر 193 ملین بیرل سے بڑھ کر 238 ملین بیرل ہو چکے ہیں۔ یہ اضافہ نہ صرف توانائی کی قلت پر قابو پانے کی جانب ایک اہم قدم ہے بلکہ اس سے تیل و گیس کی درآمدات پر انحصار بھی کم ہونے کا امکان ہے، جو ملک کے تجارتی خسارے کو کم کرنے میں مددگار ہوگا۔
مقامی سرمایہ کاری اور دریافتوں کو فروغ
ایس آئی ایف سی کی سہولت کاری سے مقامی سرمایہ کاری اور نئے ذخائر کی دریافت کو نمایاں فروغ ملا ہے۔ توانائی کے شعبے میں نئی کمپنیوں کی دلچسپی، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال، اور رکاوٹوں کے خاتمے سے ملک میں پائیدار توانائی کے حصول کی راہ ہموار ہو رہی ہے۔
توانائی کے مستقبل کی بہتری
رپورٹ کے مطابق مقامی وسائل کے استعمال میں بہتری سے توانائی کا مستقبل محفوظ اور مستحکم بنانے کی کوششیں تیز ہو گئی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہی رفتار جاری رہی تو پاکستان نہ صرف اپنی توانائی کی ضروریات خود پوری کرنے کے قابل ہو جائے گا بلکہ علاقائی توانائی تجارت کا بھی اہم مرکز بن سکتا ہے۔
حکومتی اقدامات کی ستائش
ماہرین نے ایس آئی ایف سی کی پالیسیوں اور اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ پلیٹ فارم ملک میں سرمایہ کاری کے فروغ، رکاوٹوں کے خاتمے اور اسٹراٹیجک شعبوں میں پیش رفت کے لیے نہایت اہم کردار ادا کر رہا ہے۔