صدر آذربائیجان الہام علیوف نے واضح کیا ہے کہ ان کا ملک اپنی سرحدوں سے باہر کسی بھی ملک میں فوجی دستہ بھیجنے کا ارادہ نہیں رکھتا، چاہے وہ غزہ ہو یا کوئی اور علاقہ۔
صدر علیوف کے مطابق، آذربائیجان امریکی انتظامیہ سے غزہ میں امن فوج کے آپریشن کے حوالے سے رابطے میں تھا، تاہم انہوں نے فیصلہ کیا کہ ملک کی فوج صرف اپنے اندرونی مفادات کے لیے استعمال ہوگی اور بین الاقوامی امن مشنز میں حصہ نہیں لیا جائے گا۔غیرملکی میڈیا کے مطابق، آذری حکومت کے ایک عہدیدار نے پہلے ہی اعلان کر دیا تھا کہ اس طرح کے مشنز کے لیے کوئی فوجی فراہم نہیں کیے جائیں گے۔ اس فیصلے سے واضح ہوتا ہے کہ آذربائیجان غیر ملکی عسکری مداخلت سے اجتناب اختیار کر رہا ہے اور اپنی خارجہ پالیسی میں محتاط رویہ اپنا رہا ہے۔