چودھری فرحان شوکت ہنجرا
اللہ تعالیٰ کا بے شمار شکر ہے کہ روئے زمین پر ہم اہل ایمان دین اسلام سے وابستہ ہیں اللہ تعالیٰ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے اور دین اسلام اخوت بھائی چارے حقوق اللہ حقوق العباد کی ترویج ایک دوسرے کے حقوق ،عقیدہ کا احترام ،میانہ روی اختیار کرنے نفرتوں تعصبات سے گریز کرنے کا حکم ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور تفرقہ میں نہ پڑو،نیکی کے معاملے میں ایک دوسرے کی مدد کرو اور برائی کے معاملے میں ایک دوسرے کی مدد نہ کرو،
وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کر
ہم خوار ہوئے تارک قرآں ہو کر
27 رمضان المبارک 14 اگست 1947 کو کرہ ارض پر ملک معرض وجود میں آیا جس کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے جس کی پارلیمنٹ پر کلمہ طیبہ لاالہ الااللہ محمد رسول اللہ تحریر ہے لیکن آج اسی اسلامی جمہوریہ پاکستان میں انتہا پسندی چاہیے وہ مذہبی ہو علاقائی ہو سیاسی ہو یا سماجی ہو ، تعصبات، نفرتوں کے طوفانوں میں گھر چکی ہے اہل فکر و دانش اس صورتحال پر بڑے پریشان دکھائی دیتے ہیں ایسے میں ہی اس انتہا پسندی کو ختم کرکے معاشرے میں امن بھائی چارے کے فروغ اعلیٰ اسلامی اقدار کی ترویج کیلیے حکومت پنجاب نے ایک ادارہ "پنجاب سینٹر آف ایکسیلنس آن کاؤنٹرگ وائلنٹ ایکسٹریمزم (PCOECVE) کے قیام کیا ہے اور اس ادارے کی قیادت ملک کے معروف نیک نام بیوروکریٹ محقق دانشور پالیسی ایکسپرٹ پی ایچ ڈی سکالرز احمد خاور شہزاد صاحب کو سونپی گئی ہے اس سے اس ادارے کی فعالیت و کامیابی کا ابتدا میں ہی معلوم ہوگیا ہے کہ اس ادارے کی قیادت جس شخصیت کو سونپی گئی ہے وہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا فخر ہیں اور نیت اخلاص رکھنے والوں کی اللہ تعالیٰ کی ذاتِ ضرور مدد کرے گی انشاء اللہ۔
آج ہمارے لیئے لمحہ فکریہ ہے کہ محراب و منبر کے وارث علماء کرام اور خانقاہوں درگاہوں کے مشائخ عزام قرآن و سنت کی تعلیمات کو پس پشت ڈال کر گروہی مسلکی فرقہ پرستی کی طرف راغب ہو کر اپنی تو عاقبت خراب کر ہی رہے ہیں ساتھ ساتھ اپنے عقیدت مندوں کو بھی اندھی تقلید میں ڈھال کر معاشرے میں انتہا پسندی کو فروغ دے رہے ہیں مساجد مدارس خانقاہیں تو اہل ایمان کی دینی اخلاقی سماجی علوم کا مرکز و محور ہوا کرتی تھیں یہ تو فرقہ پرست عناصر نے اپنی دوکانداری کیلئے اہل ایمان کو تقسیم کر دیا انہیں متشدد بنا دیا جس کا نقصان ایک دوسرے کی قتل گاری کی صورت میں سب کے سامنے ہے تیرا عقیدہ مسلک مردہ باد میرا عقیدہ مسلک زندہ باد کہلانے لگا ہے
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اس انتہا پسندی کی لعنت کو ختم کرنے کیلئے حکومت ادارے علماء کرام مشائخ اور علم و ادب سے وابستہ تمام مکاتب فکر کے افراد ایک پلیٹ فارم پر اکھٹے ہو کر سر جوڑ لیں اور عوام کو پرامن نفرت فرقوں مسلکوں قوم پرستی عصبیت لسانیت سے پاک نصب العین دیں تو معاشرے میں امن سکون واطمینان ہو جائے گا
صوبائی ہوم سیکرٹری پنجاب ڈاکٹر احمد جاوید قاضی صاحب اور ادارہ انسداد انتہا پسندی کے سربراہ احمد خاور شہزاد صاحب سے گذارش ہے کہ وہ
پنجاب سینٹر آف ایکسیلنس آن کاونٹنگ وائلنٹ ایکسٹریمزم میں حقیقی معنوں میں دینی علمی فکری علوم پر سبقت رکھنے والے افراد کو اس کا مستقل حصہ بنائیں لیکن اگر یہ حکومتی منشاء پر من پسند افراد کو اس ادارے میں تقویت دینے کا عمل دہرایا گیا تو اس کے کوئی مثبت نتائج نہیں نکلیں گے
احمد خاور شہزاد صاحب سے گزارش ہے کہ وہ ایک اعلی سطحی کانفرنس کا انعقاد کریں جس میں ملکی قومی سیاست قیادت،مدارس دینیہ کے قیادت،علما ومشائخ اور علم و ادب سے وابستہ شخصیات کو مدعو کریں اور اور انتہا پسندی کے خاتمے پر ایک ضابطہ اخلاق پر اتفاق کرکے اس کو نافذ العمل کروائیں
دوسری جانب ملک کے نیک نام معروف بیوروکریٹ رائے منظور ناصر جو کسی تعارف کے محتاج نہیں وہ اپنے قومی فرائض منصبی میں جس ادارے میں بھی خدمات سر انجام دے چکے اس ادارے کو چار چاند لگ گئے اور وہ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کے روشن مستقبل بچوں بچیوں کو سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات سے منور کرنے کیلئے کوئز مقابلہ جات کروارہے ہیں اور اس میں پاکستانی بچوں بچیوں کا سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کو سیکھنے اس پر عمل کرنے کا شوق دن بدن بڑھتا چلا جا رہا ہے اور انشاء اللہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے مستقبل میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کی نئی نوجوان عشق مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات سے روشناس ہوتی نظر آے گی اللہ تعالیٰ رائے منظور ناصر صاحب کو اس نیک عمل میں کامیابی سے ہمکنار اور مزید عزت و تکریم سے نوازے آمین