جب بھی قوم کی وحدت کا سوال ہوگا، اس ایوان سے ایک ہی آواز آئے گی: طارق فضل چودھری
اجلاس کے دوران انکم ٹیکس ترمیمی بل کثرتِ رائے سے منظور ، تما م بلز قائمہ کمیٹیوں کے سپرد ‘اجلاس ملتوی
ا سلام آباد(آن لائن )قومی اسمبلی کے اجلاس میں رکن اسمبلی بیرسٹر گوہر نے کہا ہے فلسطین اس وقت سب سے اہم عالمی ایشو ہے، غزہ میں اسکول، کالجز اور بنیادی انفراسٹرکچر مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔ انہوں نے بورڈ آف پیس سے متعلق حکومت کے حالیہ فیصلے پر سوال اٹھاتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کو پارلیمنٹ میں لایا جائے، ٹرمز آف انگیجمنٹ واضح کیے جائیں اور چونکہ بورڈ آف پیس اقوام متحدہ کی باڈی نہیں ہے، اس لیے پارلیمنٹ سے منظوری لینا آئینی طور پر لازم ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اس موضوع پر مشترکہ اجلاس میں سب سے پہلے بحث کی جائے۔طارق فضل چودھری نے ایوان سے خطاب میں کہا کچھ معاملات سیاست سے بالاتر ہوتے ہیں اور جب بھی قوم کی وحدت کا سوال ہوگا، اس ایوان سے ایک ہی آواز آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ مسئلہ کشمیر اور فلسطین پر دوٹوک اور واضح مؤقف اختیار کیا ہے اور آئندہ بھی عالمی سطح پر مظلوم اقوام کی حمایت جاری رکھے گا۔اجلاس کے دوران انکم ٹیکس ترمیمی سوم بل کثرتِ رائے سے منظور کر لیا گیا، جو وزیر مملکت بلال اظہر کیانی نے پیش کیا۔ انہوں نے بتایا کہ بل کا مقصد ٹیکس دہندگان کے تحفظات کو دور کرنا اور نظام کو مزید شفاف بنانا ہے۔اس کے علاوہ وفاقی وزیر اعظم نذیر تارڑ نے متعدد اہم ترمیمی بلز ایوان میں پیش کیے، جن میں نیشنل اینٹی منی لانڈرنگ اینڈ کاؤنٹر فنانسنگ آف ٹیررازم اتھارٹی ترمیمی بل،قومی محافظ خانہ دستاویزات ترمیمی بل،متروکہ املاک انتظام ترمیمی بل،نیا پاکستان ہاؤسنگ اینڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی ترمیمی بل،الیکٹرانک ٹرانزیکشنز ترمیمی بل، اور پاکستان اسٹڈی سینٹرز ترمیمی بل شامل ہیں۔تمام پیش کیے گئے بلز کو مزید غور و خوض کے لیے متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کے سپرد کر دیا گیا۔