پنجاب: سنگین جرائم میں ملوث اشتہاریوں کے سر کی قیمتوں کا تعین

پنجاب: سنگین جرائم میں ملوث اشتہاریوں کے سر کی قیمتوں کا تعین

پنجاب حکومت نے اشتہاری ملزمان کے خلاف سخت اقدامات اٹھانے کے لئے سر کی قیمت مقرر کرنے کی منظوری دی ہے، جس کا مقصد سنگین جرائم میں ملوث افراد کی گرفتاری میں تیزی لانا ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر اس فیصلے کے تحت دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ، فرقہ واریت، دھماکا خیز مواد کی ترسیل، اغوا برائے تاوان، اور قتل جیسے سنگین جرائم میں ملوث اشتہاریوں کے سر کی قیمت اور انعام کی رقم مقرر کی گئی ہے۔

تفصیلات:
سر کی قیمت مقرر کرنا:

صوبے بھر میں 130 اشتہاریوں کے سر کی قیمت اور انعام کی رقم مقرر کی گئی۔ان اشتہاریوں میں بلیک بک (انوسٹی گیشن ونگ) کے 101 اور ریڈ بک (سی ٹی ڈی ونگ) کے 13 اشتہاری شامل ہیں۔ان اشتہاریوں کی گرفتاری میں مدد کرنے والے افراد کو انعام دیا جائے گا۔
سنگین جرائم میں ملوث اشتہاریوں کی سر کی قیمت:

جن اشتہاریوں کو دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ اور بم دھماکوں میں ملوث پایا گیا ہے، ان کی سر کی قیمت میں اضافہ کیا گیا ہے۔مرید حسین جیسے ٹارگٹ کلنگ کے اشتہاری کے سر کی قیمت 2 لاکھ سے بڑھا کر 25 لاکھ روپے مقرر کی گئی۔محمد صفدر کی سر کی قیمت 5 لاکھ سے بڑھا کر 40 لاکھ روپے کی گئی۔خودکش دھماکوں میں سہولت کاروں جیسے سعد منیر ڈار اور محمد اعجاز کی انعامی رقم 2 لاکھ سے بڑھا کر 25 لاکھ فی کس کر دی گئی۔بم دھماکوں میں ملوث عمران ستار کی سر کی قیمت 3 لاکھ سے بڑھا کر 70 لاکھ روپے کی گئی۔سمیع اللہ جیسے دہشت گرد کی سر کی قیمت 2 لاکھ سے بڑھا کر 60 لاکھ کی گئی۔عبدالمجید رشید کی سر کی قیمت بھی 5 لاکھ سے بڑھا کر 25 لاکھ کی گئی۔
کچے کے ڈاکوؤں کے خلاف اقدام:

کچے کے ڈاکوؤں کے سر کی قیمتوں کو تین کیٹیگریز میں ترتیب دیا گیا:1 کروڑ، 50 لاکھ، اور 25 لاکھ روپے۔ان ڈاکوؤں کو انعامی رقم کی زیادہ قیمت دی گئی تاکہ ان کی گرفتاری کو مزید پرکشش بنایا جا سکے۔
مختلف علاقوں میں سر کی قیمت کی تفصیلات:

مختلف پولیس رینجز جیسے شیخوپورہ رینج، گوجرانوالہ رینج، سرگودھا رینج اور ملتان رینج میں مطلوب اشتہاریوں کے سر کی قیمت اور انعام کی رقم مقرر کی گئی۔مثال کے طور پر، منڈی بہاؤالدین میں مطلوب اشتہاری کی سر کی قیمت 20 لاکھ روپے رکھی گئی۔سرگودھا رینج میں کچھ اشتہاریوں کی سر کی قیمتیں 3 لاکھ سے لے کر 20 لاکھ تک مقرر کی گئیں۔
اجلاس کی تفصیلات:

یہ فیصلے پنجاب کے محکمہ داخلہ میں صوبائی وزیر قانون ملک صہیب احمد بھرتھ کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں کیے گئے۔اجلاس میں اسپیشل سیکریٹری داخلہ فضل الرحمٰن، سیکریٹری پراسکیوشن احمد عزیز تارڑ، ایڈیشنل آئی جی انویسٹیگیشن اظہر اکرم، اور ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ ڈاکٹر محمد ذیشان حنیف سمیت دیگر افسران نے شرکت کی۔
نیا حکومتی حکمت عملی:

اس اقدام کا مقصد پنجاب میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانا ہے اور مشتہرین کی گرفتاری کو ممکن بنانا ہے۔حکومت پنجاب نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ مطلوب اشتہاریوں کی گرفتاری میں پیش رفت کا جائزہ ماہانہ بنیادوں پر لیا جائے گا۔اس کے علاوہ، اشتہاریوں کے خلاف کارروائی میں تیزی لانے کے لئے پولیس ٹیموں اور مدد فراہم کرنے والوں کو انعامی رقم کی تقسیم کی جائے گی۔
نتیجہ:
یہ اقدامات حکومت پنجاب کی جانب سے امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے اور سنگین جرائم میں ملوث افراد کی گرفتاری کو ممکن بنانے کے لیے اہم قدم ہیں۔ سر کی قیمتوں کے تعین کے ذریعے حکومت نے یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ جرائم پیشہ افراد کے خلاف کارروائی میں عوام کی شمولیت اہم ہے۔