تحفظ پسندی آگے نہیں جاتی اور تجارتی جنگ میں کوئی فاتح نہیں ہوتا،نائب وزیراعظم چین ڈنگ ژوئی سیانگ
ڈیووس (آئی این پی )ڈونلڈ ٹرمپ کی وائٹ ہائوس میں واپسی کے بعد نئی تجارتی جنگوں کا خطرہ منڈلانے کے بعد یورپی اور چینی رہنمائوں نے ڈیووس میں باری باری عالمی تعاون کا دفاع کیا۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق ٹرمپ رواں ہفتے سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے ورلڈ اکنامک فورم میں آن لائن شرکت کررہے ہیں ۔ اپنی تقاریر میں یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیر لیئن، چین کے نائب وزیر اعظم ڈنگ ژوئی سیانگ اور جرمن چانسلر اولف شولز نے دنیا کے ایسے تصورات پیش کیے، جو خود ساختہ ٹیرف سے محبت کرنے والے ٹرمپ کے تصورات کے برعکس ہیں۔چینی نائب وزیر اعظم نے ٹرمپ کا براہ راست نام لیے بغیر کہا کہ تحفظ پسندی آگے نہیں جاتی اور تجارتی جنگ میں کوئی فاتح نہیں ہوتا۔دریں اثنا، ارسلا وان ڈیر لیئن نے مصالحتی لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ یورپی یونین کی پہلی ترجیح جلد بات چیت کرنا، مشترکہ مفادات پر تبادلہ خیال کرنا اور ٹرمپ کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار رہنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ہم ہمیشہ اپنے اصولوں، مفادات کے تحفظ اور اپنی اقدار کو برقرار رکھنے کے لیے کھڑے رہیں گے۔یورپی کمیشن کی صدر نے یہ بھی کہا کہ یورپ کو چین کے ساتھ تعمیری طور پر بات چیت کرنی چاہیے، تاکہ دونوں فریقین کے درمیان بڑھتی ہوئی تجارتی کشیدگی کے باوجود ہمارے باہمی مفاد کا حل تلاش کیا جاسکے۔