اپنا گھر ٹھیک کیے بغیر قرضوں کے بوجھ سے چھٹکارا پانا مشکل:وزیرخزانہ

پائیدار ترقی کا حصول ترجیح ، ملک کا بڑا مسئلہ کرنٹ اور فسکل اکائونٹ کا جڑواں خسارہ ،حکومت اپنے اخراجات میں کمی کیلئے کوشاں ،ڈیوس میںمذاکرے سے خطاب

 محمد اورنگزیب کی ڈی پی ورلڈ کے ڈپٹی سی ای او یووراج نارائن او ایم ڈی رضوان سومر سے ملاقات ،پاکستان میں تجارتی فروغ کے لیے انفراسٹرکچر بہتر بنانے پر گفتگو 
ڈیووس(آئی این پی ) وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ اپنا گھر ٹھیک کیے بغیر قرضوں کے بوجھ سے چھٹکارا پانا مشکل ہے،پائیدار ترقی کا حصول پاکستان کی اولین ترجیح ہے،ملک کاسب سے بڑا مسئلہ کرنٹ اکائونٹ اور فسکل اکائونٹ کا جڑواں خسارہ رہا ہے،ڈھانچہ جاتی اصلاحات سے ٹیکس ٹوجی ڈی پی شرح کو13فیصد تک لے جانیکی کوشش ہے،حکومت اپنے اخراجات میں کمی،قرضوں کی ادائیگی کاحجم کم کرنے کیلئے کوشاں ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں ترقی پذیر معیشتوں پرقرضوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ کے موضوع پر منعقدہ مذاکرے سے بطور پینلسٹ گفتگو کرتے ہوئے کیا۔وزیر خزانہ نے مالیاتی پالیسیوں میں تبدیلی اور قرضوں میں پائیداری کے ذریعے مضبوط اور لچکدار معیشتوں کے قیام پر نقطہ نظر بیان کیا۔انکا کہنا تھا کہ پاکستان میںفسکل خسارے کی سب سے بڑی وجہ 9سے 10فیصد غیر پائیدار ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح ہے، ڈھانچہ جاتی اصلاحات کے باعث ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح کو 13 فیصد تک لے جانے کی کوشش جاری ہے،ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح بڑھائے بنا قوموں کر برادری میں باعزت مقام کا حصول نا ممکن ہے۔ وزیر خزانہ اورنگزیب کاکہناتھاکہ حکومت اپنے اخراجات میں کمی اور قرضوں کی ادائیگی کا حجم کم کرنے کے لیے کوشاں ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں قرض ٹو جی ڈی پی شرح 78 فیصد سے کم ہو کر 67 فیصد پر آ گئی ہے،قرض لینا برا نہیں قرض کا صحیح استعمال ضروری ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ قرضوں سے خرچے چلانے یا سبسڈیز دینے کے بجائے پیداواری صلاحیت بڑھا کر برآمدات کو فروغ دینا چاہیے۔پاکستان کی معاشی ترقی اتار چڑھائو کا شکار رہی ہے، جی ڈی پی کی شرح نمو 4 فیصد ہوتے ہی معیشت کے درآمدات پر انحصار کے باعث ادائیگیوں کا توازن بگڑ جاتا ہے،ادائیگیوں کے توازن کے بگڑنے سے ہر دفعہ آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پائیدار ترقی کا حصول پاکستان کی اولین ترجیح ہے، معیشت کے ڈی این اے کو تبدیل کر کے برآمدات کے ذریعے معیشت کو مستحکم بنانے کی پالیسی پر گامزن ہیں۔نجی شعبے کو معاشی ترقی میں ہراول دستے کا کردار ادا کرنا ہو گا۔ وزیر خزانہ نے کہا عالمی بینک کے ساتھ دس سالہ رفاقتی پروگرام سے بڑھتی ہوئی آبادی، غربت اور ماحولیاتی مسائل پر قابو پا کر پائیدار معاشی ترقی کی جانب بڑھیں گے، سی پیک فیز ٹو میں حکومت ٹو حکومت کے بجائے بزنس ٹو بزنس پر توجہ مرکوز رہے گی،سی پیک فیز ٹو میں چینی کمپنیوں کو پیداواری یونٹس پاکستان منتقل کرنے پر قائل کیا جائے گا، چینی کمپنیاں پاکستان کو اپنی برآمدات کا مرکز بنا سکتی ہیں،پاکستان پانڈا بانڈ کے ذریعے دنیا کی سب سے بڑی اور گہری چینی کیپیٹل مارکیٹ تک رسائی چاہتا ہے، وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ پاکستان مصر کے تجربات سے سیکھ کر کیپٹل مارکیٹ کی رسائی میں تنوع اور کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کا خواہاں ہے۔دریں اثناء وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ڈی پی ورلڈ کے ڈپٹی سی ای او اور سی ایف اویووراج نارائن اور سی ای او و ایم ڈی رضوان سومر سے ملاقات کی۔ ملاقات میں پاکستان میں تجارتی فروغ کے لیے انفراسٹرکچر اور لاجسٹک فریم ورک کو بہتر بنانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر خزانہ نے یقین دلایا کہ حکومت B2B اور B2G تعاون میں اپنی شراکت داری کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور مشترکہ منصوبوں کو آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہے۔