ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے حالیہ مذاکرات کے حوالے سے مثبت اشارے دیے ہیں، جس میں انہوں نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ بات چیت میں حوصلہ افزا نتائج نکلے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ایران خطے میں امن اور استحکام کے لیے پُرعزم ہے اور حالیہ بات چیت میں عملی تجاویز کا تبادلہ ہوا ہے، جس سے مثبت پیش رفت کے امکانات ظاہر ہوتے ہیں۔پریزنٹیشن میں انہوں نے واضح کیا کہ ایران کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہے اور امریکی اقدامات کو باریک بینی سے جائزہ میں رکھا جا رہا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی بتایا کہ جنیوا میں امریکی نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف سے ملاقات متوقع ہے۔
عراقچی کا کہنا تھا کہ اگر امریکہ نے ایران پر حملہ کیا، تو ایران کو اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے، لیکن ساتھ ہی انہوں نے سفارتی حل کے امکانات کو بھی برقرار رکھا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، ان بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کشیدگی کے باوجود مذاکراتی عمل کو جاری رکھنے کے ارادے رکھتے ہیں۔