طلعت بٹ
نفس وہ بھوکا کتا ہے جو انسان سے غلیظ کام کروانے کیلئے بھونکتا رہتا ہے اور اس وقت تک لگا تار بھونکتا رہتا ہے جب تک وہ غلط کام کروا نہ لے پھر اپنا مقصد پورا ہونے کے بعد فاتح جنگ کی مانند میٹھی نیند سو جاتا ہے مگر سونے سے پہلے وہ انسان کے ضمیر کو جنجھوڑتا ہے(امام غزالی) کے اس مکالے میں کتنی صداقت ہے کہ انسان کا ضمیر سوتا ہے اور انسان کے اندر ایک کتا ہے جو مسلسل بھونکتا رہتا ہے دراصل یہ بات انسان سے نہیں بلکہ اس کے ضمیر سے منسلک ہے۔ آپ روزمرہ کی زندگی میں تجزیہ کریں تو آپ کو بہت سے لوگ غلط کام کرتے ہوئے سرراہ ہی نظر آئیں گے اور آپ اس قسم کے لوگوں کو کبھی بھی فراموش نہیں کر پاتے۔ پھر آپ ان کا ذکر اپنی محفلوں میں بھی کرنا معمول بنا لیتے ہیں۔ حقیقت میں یہ لوگ مردہ ضمیر اور نظریاتی طور پر جرائم پیشہ افراد کہلاتے ہیں۔ آج اس قسم کے لوگوں کی تعداد پاکستان میں 90% سے بھی زیادہ بتائی جاتی ہے 10% سے بھی کم لوگ جاگتے ہوئے اپنی زندگی بسر کر رہے ہیں یہاں پر ایک پوائنٹ جو میں کلیر کر دوں کہ میں یہ ساری تحریر فقط اپنے معاشرے کی اصلاح کیلئے درج کر رہا ہوں نا کہ انکے خلاف ، دوسری دنیا کے انسان اس سے مختلف حالات میں زندگی کی گاڑی کو کھینچ رہے ہیں۔ جس معاشرے میں لوگ مزاروں اور درباروں میں چرس اور بھنگ پی کر نعرے لگاتے ہوئے عرس مبارک میں ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے ڈالتے ہوئے دیکھئے میں ملیں اور اس کو روکنے والا کوئی نہ ہو جگہ جگہ جعلی پیر و مرشد اور گدی نشین وغیرہ ان لوگوں کے ایمان کے ساتھ کھیلتے ہوئے پائے جاتے ہوں وہاں پر موجود ہر طرف ضمیر کا سودا کرنے والے افراد ہر شعبہ میں متحرک نظر آتے ہیں اب آپ اندازہ کریں کہ یہی لوگ کاروبار زندگی چلا رہے ہیں جہاں پر نفس پر کمند ڈالے یہی پیر فقیر اور بابا جی کس قسم کا کلچر پیش کرتے ہیں جو دوسری دنیا کو اس بارے میں سوچنے پر مجبور کر دیتا ھے۔ مگر کوئی ان کو پوچھنے والا نہیں ہے اب تو یہ حالت ہو چکی ہے کہ پاکستان کے دیہاتی علاقوں کے لوگ صبح سویرے قریب شہروں میں کام کی غرض سے نکلتے ہیں کام نہ ملنے کی وجہ سے منشیات کی لت میں پڑ جاتے ہیں اور بے کار زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ مجھے یہ کہنے میں تکلیف ہو رہی ہے کہ شہری علاقوں میں نوجوان نسل تباہ ہو رہی ہے اور تعلیم و تربیت کے حوالے سے حالات بہت بگڑ چکے ہیں۔ جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ ہماری ملکی سیاست مردہ ہو چکی ھے۔ معاشرہ نفیساتی طور پر بھی نڈھال نظر آ رہا ھے۔ اس طرح روحانی طور پر کتنے لوگ زندہ بچتے ہیں۔ جس معاشرے میں کرپٹ نظام اور رشوت کے عادی ادارے مجرموں کو پناہ دیں اور ظالموں کے ساتھ مل کر عام لوگوں پر ظلم و ستم کی داستانیں رقم کریں تو سمجھ لیں وہ معاشرے دنیا کے نقشہ پر بے معنی اہمیت کے حامل ہی نظر آتے ھیں۔