پنجاب میں ضابطہ فوجداری 1898 اور پنجاب کریمنل پراسیکیوشن سروس ایکٹ 2006 میں اہم ترامیم کی منظوری دے دی گئی ہے۔
محکمہ پبلک پراسیکیوشن پنجاب نے اس ترمیمی مسودہ کو پنجاب کابینہ کے سامنے پیش کیا، جس کی منظوری حاصل ہوگئی ہے۔اس ترمیم کے تحت فوجداری مقدمات میں پراسیکیوشن کا کردار مرکزی حیثیت اختیار کرے گا، اور تفتیش اور پراسیکیوشن کے درمیان ادارہ جاتی ربط کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔ سرکاری وکیل کے اختیارات اور ذمہ داریاں واضح کر دی گئی ہیں، جس سے چالان، شہادتوں اور گواہوں کے بیانات میں پراسیکیوشن کا مؤثر کردار یقینی بنایا جائے گا۔اس کے علاوہ، پراسیکیوشن کو غیر ضروری مداخلت سے آزاد کرنے کی سفارشات بھی شامل ہیں، جس کے تحت پراسیکیوٹر جنرل پنجاب کے اختیارات کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔ ساتھ ہی، پراسیکیوشن سروس میں مانیٹرنگ اور کارکردگی جانچنے کے نظام کو بھی متعارف کرایا جائے گا۔
نقص تفتیش پر پراسیکیوشن کو اعتراض اور اصلاح کا اختیار دیا گیا ہے، اور ڈیجیٹل کیس مینجمنٹ اور ریکارڈ کی قانونی اجازت بھی شامل ہے تاکہ مقدمات کی جلدی اور مؤثر نمٹارہو سکے۔ اس ترمیم کا ہدف تاخیر کو کم کرنا اور سزا کی شرح کو بڑھانا ہے، تاکہ عوام کو منصفانہ اور فوری انصاف فراہم کیا جا سکے۔یہ قانون سازی عدالتی نظام میں اصلاحات لانے اور انصاف کی فراہمی کے عمل کو بہتر بنانے کے لیے اہم قدم ہے۔