تنویر الاسلام
سرزمینِ ریاستِ جموں و کشمیر ایک طویل اور کرب ناک آزمائش سے گزر رہی ہے۔ جوان قبروں میں اتر رہے ہیں اورزندانوں میں ڈالے جارہے ہیں، مائیں جنازے اٹھا رہی ہیں، گھروں کے چراغ بجھ رہے ہیں، اور اب وہ بزرگ بھی خاموشی سے نہیں بلکہ اپنا خون دے کر رخصت ہو رہے ہیں جنہوں نے اپنی پوری زندگی اس سرزمین کے دکھ، انتظار اور امید کے ساتھ گزاری۔ لاکھوں انسان اپنے گھر بار سے بچھڑ چکے ہیں اور بے شمار جانیں اس تنازع کی نذر ہو چکی ہیں۔ یہ محض اموات، ہجرتوں اور بچھڑنے والوں کا نوحہ نہیں؛ یہ ایک ایسی نسل در نسل داستان ہے جس نے محرومی، جدائی، خوف اور بے یقینی کے باوجود امن، انصاف، انسانی وقار اور بہتر مستقبل کی امید اپنے دلوں میں زندہ رکھی۔ اب وہی نسل ایک سوال چھوڑ کر رخصت ہو رہی ہیکہآخر کشمیر کے نصیب میں یہ کیسا موسم لکھا گیا ہے؟
کشمیر کی مٹی میں کتنی ماؤں کی آہیں دفن ہیں؟ کتنے نوجوانوں کا لہو اس کی وادیوں کی خاموشی میں جذب ہو چکا ہے؟ کتنی بہنوں کے خواب اجڑ گئے، کتنے بچوں کا بچپن خوف نے نگل لیا، اور کتنے بزرگ نامکمل دعائیں لیے دنیا سے رخصت ہو گئے؟ یہ محض جذباتی سوالات نہیں؛ یہ اس تلخ حقیقت کی گواہی ہیں کہ کشمیر کا مسئلہ سب سے پہلے انسانی زندگی کا مسئلہ ہے۔ ہر مرنے والا کسی کا بیٹا، باپ، بھائی یا سہارا تھا۔ ایک انسانی جان کا ضیاع محض ایک خبر نہیں ہوتا؛ اس کے ساتھ ایک گھر اجڑتا، ایک خاندان ٹوٹتا اور کئی زندگیاں بدل جاتی ہیں۔
اسی لیے کشمیر کو صرف اعداد و شمار، نقشوں اور سیاسی نعروں میں نہیں دیکھا جا سکتا۔ ہر عدد کے پیچھے ایک چہرہ ہے، ہر چہرے کے پیچھے ایک خاندان، اور ہر خاندان کے پیچھے ایک پوری داستانِ زندگی ہے۔ کشمیر کا سوال سیاسی بھی ہے، تاریخی بھی اور جغرافیائی بھی؛ مگر ان سب سے پہلے یہ انسانی سوال ہے۔ اسے صرف سرحدوں اور سیاسی بیانیوں کی عینک سے دیکھنا اس کے زخموں کے ساتھ انصاف نہیں۔ ان نقشوں کے بیچ انسان کھڑے ہیں: وہ ماں جو اپنے بیٹے کی زندگی چاہتی ہے، وہ باپ جو اپنے بچوں کا محفوظ مستقبل چاہتا ہے، وہ بزرگ جو خوف کے بغیر جینا چاہتا ہے اور وہ نوجوان جو کفن نہیں بلکہ کتاب، ہنر اور مستقبل چاہتا ہے۔وہ خاندان بھی ہیں جو برسوں سے بچھڑے ہوئے ہیں اور دوبارہ ملنا چاہتے ہیں؛ وہ لوگ بھی ہیں جو امن کے ساتھ اپنے گھروں کو لوٹنا چاہتے ہیں؛ اور وہ بیٹے اور بیٹیاں بھی ہیں جو اپنی زندگی میں اپنے والدین اور عزیزوں کی قبروں پر حاضری دینا چاہتے ہیں۔ یہی وہ انسانی حقیقت ہے جسے سیاست کے شور میں فراموش نہیں کیا جا سکتا
اس سرزمین نے بہت کچھ سہہ لیا ہے۔ اس کی ماؤں نے بہت رو لیا، اس کے گھروں نے بہت ماتم کر لیا، اس کے بزرگوں نے بہت انتظار کر لیا۔ اب کشمیر کو مزید قبریں نہیں چاہئیں؛ زندہ انسان چاہئیں۔ اسے ایسے گھر چاہئیں جہاں رات خوف کے بغیر اترے، ایسے اسکول چاہئیں جہاں گولیوں کے بجائے کتابوں کی آواز گونجے، ایسے آنگن چاہئیں جہاں سسکیوں کے بجائے بچوں کی ہنسی سنائی دے اور ایسا مستقبل چاہیے جہاں نوجوانوں کے ہاتھوں میں کفن نہیں بلکہ کتاب، ہنر اور خواب ہوں؛ جہاں بزرگ اپنے آخری دن خوف کے بجائے سکون، تحفظ اور عزت کے ساتھ گزاریں۔
ایسا ماحول بھی چاہیے جہاں سوال کا جواب حکمت، دلیل اور حل سے دیا جائے، سوال کرنے والے کو خاموش کرکے نہیں اور اس کی ماں کی کنپٹی پر بندوق رکھ کر نہیں۔ یہ کوئی غیر معمولی مطالبہ نہیں؛ یہ ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔ اور یہی انسانی حق ہمیں کشمیر کے سیاسی مسئلے کے بنیادی سوال تک لے جاتا ہے۔
تقسیم شدہ ریاستِ جموں و کشمیر کا دیرینہ تنازع خطے کے مسائل کے پس منظر میں ایک بنیادی حقیقت ہے۔ اس کا حل شاید ایک دن میں نہ نکلے، مگر امن، انسانی تحفظ اور انصاف کی طرف پہلا قدم آج بھی اٹھایا جا سکتا ہے۔ وہ قدم ہے مکالمہ۔ مکالمہ کمزوری نہیں؛ یہ اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ اختلاف کے باوجود انسان، انسان ہی رہتا ہے۔ ہمیں ایک دوسرے کو سننا ہوگا، ایک دوسرے کے دکھ کو سمجھنا ہوگا، اور اختلافات کو دشمنی میں تبدیل ہونے سے روکنا ہوگا۔ بھارت اور پاکستان کو مسئلہ? کشمیر کے منصفانہ اور پائیدار حل کے لیے بامعنی، سنجیدہ اور مسلسل مکالمے کی طرف واپس آنا ہوگا۔ لیکن صرف بین الریاستی مکالمہ کافی نہیں؛ ریاستِ جموں و کشمیر کے مختلف خطوں اور تمام مذہبی و سماجی برادریوں کے درمیان بھی بامعنی انٹرا کشمیر ڈائیلاگ ناگزیر ہے۔
کشمیر کی مذہبی و سماجی برادریاں اس تاریخی سرزمین کے اجتماعی وجود کا حصہ ہیں۔ ان کے درمیان مکالمہ محض سیاسی ضرورت نہیں بلکہ مستقبل کی تعمیر کے لیے انسانی ضرورت بھی ہے۔ اختلافات کو دبانا یا طاقت کے ذریعے مسلط کرنا حل نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اختلافات کو مکالمے، انصاف، باہمی احترام اور سیاسی بصیرت کے ذریعے قابلِ انتظام بنایا جائے، تاکہ اختلاف دشمنی نہ بنے اور تنوع نفرت میں نہ ڈھلے۔
اسی تناظر میں آزاد کشمیر کا موجودہ بحران بھی ہمارے لیے ایک سنجیدہ امتحان ہے۔ بدقسمتی سے حالات سنگین ہو رہے ہیں، مگر اس کا راستہ تصادم نہیں بلکہ آئین و قانون کے دائرے میں بامعنی سیاسی مکالمہ ہے۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ عوام کے جائز مطالبات کو سنے، ان کے تحفظات کو سمجھے اور انصاف و حکمت کے ساتھ ان کا حل تلاش کرے۔ اسی طرح عوام کی ذمہ داری ہے کہ ریاست سے وفاداری، امن و امان اور قانون کی پاسداری کو مقدم رکھیں۔ ریاست اور عوام، دونوں کی ذمہ داری، باہمی احترام اور اعتماد ہی اس بحران سے پْرامن اور باوقار طور پر نکلنے کی بنیاد بن سکتے ہیں۔
پائیدار امن محض خاموشی کا نام نہیں۔ وہ ایسا سیاسی اور سماجی انصاف بھی چاہتا ہے جس میں لوگوں کو اپنی آواز، شناخت، بنیادی حقوق اور اپنے مستقبل کے بارے میں بامعنی شرکت حاصل ہو۔ امن اعتماد سے پیدا ہوتا ہے، انصاف سے جڑتا ہے اور مکالمے کے ذریعے راستہ پاتا ہے۔
ایک دن آنے والی نسلیں ہم سے ضرور پوچھیں گی جب کشمیر کی مائیں رو رہی تھیں تو ہم کہاں تھے؟ اس سوال کا جواب صرف حکومتوں، سیاسی جماعتوں یا قیادتوں نے نہیں دینا؛ ہم سب نے دینا ہے۔ کیونکہ تاریخ صرف حکمرانوں کا حساب نہیں رکھتی، وہ معاشروں کے ضمیر کا بھی احتساب کرتی ہے۔
اے سرزمینِ کشمیر! تیرے زخموں کا مکمل حساب شاید کوئی نہ لکھ سکے، تیرے آنسوؤں کی گنتی شاید ممکن نہ ہو۔ مگر ایک چیز اب بھی ہمارے اختیار میں ہے ہم تیری داستان کا اگلا باب کیسے لکھتے ہیں؟ کیا آنے والے صفحات بھی جنازوں، قبروں، خوف اور انتقام سے بھرے ہوں گے، یا ہم ایک ایسی سطر لکھنے کی جسارت کریں گے جس میں زندگی ہو، انصاف ہو، مکالمہ ہو، محبت و اخوت ہو اور امید ہو؟ کشمیر کی مٹی نے بہت لہو دیکھ لیا ہے۔ اب اسے امن، انصاف، بنیادی حقوق، انسانی وقار، محبت اور باوقار زندگی درکار ہے۔ شاید کسی ایک مسیحا کا انتظار کرنے کے بجائے ہمیں اپنے اپنے حصے کا چراغ جلانا ہوگا—نفرت کے اندھیرے میں محبت کا، انتقام کے موسم میں انصاف کا، بندوق کے شور میں مکالمے کا اور مایوسی کے بیچ امید کاآخرکار سوال صرف یہ نہیں کہ کشمیر کس کا ہے؟ اصل سوال یہ ہے کہ کشمیر کے لوگوں کے حقِ زندگی، امن اور وقار کو محفوظ کون کرے گا اور کیسے؟ یہ سوال ہم سب سے جواب طلب کرتا ہے، اور کشمیر کا اگلا باب انسانیت، انصاف، امن اور آزادی کی روشنی میں لکھنا ہے۔