دمشق کے صدارتی محل میں شام کے نئے رہنما، ہیئۃ التحریر الشام (ایچ ٹی ایس) کے سربراہ احمد الشرح المعروف ابو محمد الجولانی سے سعودی اور ترک وفود نے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔
ان ملاقاتوں کا مقصد شام کے حالات اور مستقبل کے حوالے سے مختلف امور پر بات چیت کرنا تھا۔
سعودی وفد کی ملاقات
سعودی وفد کی جانب سے ہونے والی ملاقات کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں، تاہم ذرائع کے مطابق بات چیت کا محور شام میں سعودی سفارت خانے کو دوبارہ کھولنے، شام کی مستقبل کی حکومت کے لیے سعودی حمایت اور ہیئۃ التحریر الشام (ایچ ٹی ایس) پر عائد عالمی پابندیاں ختم کرنے کے اقدامات تھے۔ ملاقات کے بعد دونوں جانب سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔
ترک وزیر خارجہ کی ملاقات
ترکی کے وزیر خارجہ حاکان فدان نے بھی احمد الشرح سے ملاقات کی، جس میں شام کی تعمیرِ نو میں ترکی کی مدد اور سیاسی عبوری عمل میں تعاون کا وعدہ کیا گیا۔ترک وزیر خارجہ نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ شام پر عائد تمام پابندیاں فوری طور پر ختم کی جائیں تاکہ ملک کو دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کا موقع مل سکے۔ احمد الشرح نے بھی پابندیاں ختم کرنے کی حمایت کی اور اس کی اہمیت پر زور دیا۔
تبادلۂ خیال کے موضوعات
ان ملاقاتوں میں شام کا نیا آئین تشکیل دینے، اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ، پناہ گزینوں کے مسائل کے حل، اسرائیل کی خلاف ورزیوں کے تدارک، اور کردش پیپلز پروٹیکشن یونٹس (وائی پی جی) کے معاملات پر بھی تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔یہ ملاقاتیں شام میں جاری بحران کے خاتمے اور اس کی تعمیرِ نو کے لیے بین الاقوامی تعاون کے امکانات کو تقویت دینے کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہیں۔