پاکستان میں مرغی کے گوشت اور انڈوں کی قیمتوں میں مزید اضافہ

پاکستان میں مرغی کے گوشت اور انڈوں کی قیمتوں میں مزید اضافہ

پاکستان کے مختلف شہروں میں مرغی کے گوشت اور انڈوں کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس کے باعث عوام کو مزید معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔

 لاہور، ملتان اور اسلام آباد سمیت دیگر شہروں میں مرغی اور انڈوں کی قیمتوں میں اضافے کے بعد کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں تشویش ناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے۔

لاہور میں قیمتوں کی تفصیل
لاہور میں مرغی کے گوشت کی قیمتوں میں ایک اور اضافہ ہوا ہے۔ آج مرغی کے گوشت کی قیمت میں 7 روپے کا اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد قیمت 475 روپے فی کلو ہو گئی ہے۔ گزشتہ روز مرغی کے گوشت کی قیمت 468 روپے فی کلو تھی، اور اس سے پہلے بھی قیمت میں کمی آئی تھی، لیکن آج پھر اضافہ ہو گیا۔

زندہ برائلر مرغی کی قیمت:

زندہ برائلر کی قیمت میں بھی 5 روپے کا اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد زندہ مرغی کا تھوک ریٹ 314 روپے فی کلو جبکہ پرچون قیمت 328 روپے فی کلو ہو گئی ہے۔گزشتہ روز زندہ مرغی کی قیمتوں میں 5 روپے کمی ہوئی تھی۔
انڈے:
لاہور کی انتظامیہ نے انڈوں کی قیمت میں مزید ایک روپے کا اضافہ کر دیا ہے۔ اب انڈوں کی فی درجن قیمت 326 روپے ہو گئی ہے۔ گزشتہ روز بھی انڈوں کی قیمت میں ایک روپے کا اضافہ ہوا تھا۔
ملتان میں قیمتوں کی تفصیل
ملتان میں بھی مرغی کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان دیکھنے کو مل رہا ہے:

زندہ برائلر مرغی:تھوک قیمت 294 روپے فی کلو، اور پرچون قیمت 308 روپے فی کلو ہے۔
مرغی کا گوشت:مرغی کے گوشت کی فی کلو قیمت 446 روپے تک پہنچ گئی ہے۔
انڈے:انڈوں کی فی درجن قیمت 324 روپے ہے۔
اسلام آباد میں قیمتوں کی تفصیل
اسلام آباد میں بھی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے:

غوری ٹاؤن: مرغی کے گوشت کی قیمت 530 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے۔
ترامڑی اور علی پور: مرغی کے گوشت کی قیمت 480 روپے فی کلو ہے۔
اس اضافے کی وجوہات
پاکستان میں مرغی اور انڈوں کی قیمتوں میں اضافے کی کئی وجوہات ہیں:

فیڈ اور خوراک کی قیمتوں میں اضافہ: فیڈ کی قیمتوں میں اضافے کے باعث مرغیوں کی پرورش مہنگی ہو گئی ہے، جس کا اثر گوشت کی قیمتوں پر پڑ رہا ہے۔
سپلائی چین کے مسائل: ملک میں سپلائی چین کے مسائل اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں اضافہ ہونے کی وجہ سے مرغی اور انڈوں کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔
طلب میں اضافہ: مختلف موسموں اور تہواروں کی وجہ سے مرغی اور انڈوں کی طلب میں اضافہ ہوتا ہے، جس کی وجہ سے قیمتوں میں اتار چڑھاؤ آتا ہے۔
زرعی بحران: زرعی شعبے میں پیدا ہونے والی مشکلات، جیسے فصلوں کی کمی یا دیگر قدرتی آفات، بھی ان قیمتوں میں اضافے کا سبب بنتی ہیں۔
عوامی ردعمل اور حکومت سے مطالبات
عوام نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ پاکستان کے عوام کو مرغی اور انڈے جیسے اہم غذائی اجزاء تک رسائی کی ضرورت ہے، اور حکومت سے یہ امید کی جا رہی ہے کہ وہ ان قیمتوں کو کنٹرول کرے تاکہ عوام کو سستی اور معیاری غذائیں میسر آ سکیں۔یہ صورتحال نہ صرف عوامی سطح پر بلکہ معیشت پر بھی سنگین اثرات ڈال رہی ہے، کیونکہ خوراک کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی کی شرح میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔