سیلاب : شادی کی خو شیاں 24 جنازوں میں بدل گئیں

25 سالہ نور محمدملائیشیا میں مقیم تھا ، شادی کے لئے 15 اگست کو وطن پہنچا 
 بارات کے بجائے جنازوں میں شریک ہونا پڑا،ایئر پورٹ لینے آنے والا بھائی بچ گیا
سیلاب آیاسب کچھ بہا لے گیا،اب باقی صرف ملبہ ہے ،نوحہ کناں نور محمد کی گفتگو
قادِر نگر /بونیر (خصوصی رپورٹ)شادی سے دو دن پہلے ماں سے آخری بار فون پر بات کرنے والے نور محمد کی خوشیوں کو قیامت خیز سیلاب نے ماتم میں بدل دیا۔ بونیر کے گاؤں قادِر نگر میں آنے والے اچانک طوفانی سیلاب نے اس کی ماں اور 23 عزیز و اقارب کی جان لے لی، خوشیوں کے خواب ملبے کا ڈھیر بن گئے۔25 سالہ نور محمد، جو محنت مزدوری کے لیے ملائیشیا میں مقیم تھا ، اپنی شادی کے لیے 15 اگست کو وطن پہنچا۔ مگر بارات کے بجائے اپنی ماں، بہن، بھائی اور دیگر پیاروں کے 24 جنازوں میں شریک ہونا پڑا۔ اس کے والد اور ایک بھائی اس سانحے سے صرف اس لیے بچ گئے کہ وہ اسے ایئرپورٹ لینے گئے تھے۔ دلہن محفوظ رہی کیونکہ اس کا گھر متاثرہ علاقے سے دور تھا۔بونیر ضلع اس حالیہ طوفانی بارش اور سیلاب میں سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے جہاں صرف ایک ہفتے میں 200 سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے۔ حکام کے مطابق یہ تباہی ایک غیرمعمولی کلاؤڈ برسٹ کے باعث آئی جس میں ایک گھنٹے میں 150 ملی میٹر سے زیادہ بارش ریکارڈ ہوئی۔مقامی افراد کے مطابق، انہوں نے اپنی زندگی میں ایسا طوفان پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ درجنوں مکانات، بازار اور عمارتیں مٹی اور پتھروں کے تودوں کے ساتھ بہہ گئیں، سیکڑوں لوگ لاپتہ ہیں ۔نوحہ کناں نور محمد نے کہا سیلاب آیا، سب کچھ بہا لے گیا۔ گھر، ماں، بہن، بھائی، چچا، دادا اور بچے۔ اب باقی صرف ملبہ ہے ، یہ اللہ کی رضا ہے۔