پنجاب، خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں مون سون کی بارشوں کا نیا سلسلہ آج سے شروع ہو گیا ہے۔
این ڈی ایم اے نے شہریوں اور متعلقہ اداروں کو بارشوں اور ممکنہ سیلابی صورتحال کے حوالے سے الرٹ جاری کر دیا ہے۔
موسمی صورتحال
لاہور میں جمعہ کی صبح سورج کی تیز کرنوں کے ساتھ گرمی اور حبس میں اضافہ محسوس کیا گیا۔محکمہ موسمیات کے مطابق موجودہ درجہ حرارت 30 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 33 ڈگری اور کم سے کم 26 ڈگری سینٹی گریڈ رہا۔ہوا کی رفتار 8 سے 10 کلومیٹر فی گھنٹہ جبکہ ہوا میں نمی 78 سے 90 فیصد تک ہے۔دن بھر سورج اور بادلوں کی "آنکھ مچولی" جاری رہے گی اور کچھ علاقوں میں 30 سے 80 فیصد تک بارش کا امکان ہے۔
خطرات اور انتباہات
نشےبی علاقوں میں سیلاب اور پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔لاہور، راولپنڈی، ملتان، فیصل آباد میں فلیش فلڈنگ کا خدشہ۔پہاڑی ندی نالوں میں طغیانی متوقع۔
تربیلا ڈیم 1550 فٹ کی انتہائی سطح تک بھر چکا ہے اور سپیل ویز کھول دیے گئے۔ڈاؤن اسٹریم میں پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 50 ہزار کیوسک تک پہنچنے کا امکان۔دریائے سندھ میں گڈو بیراج کے مقام پر پانی کی سطح بلند ہوگئی، درمیانے درجے کی سیلابی صورتحال برقرار ہے۔دریائے ستلج میں پانی کی سطح میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔
متاثرہ علاقوں میں صورتحال
ہیڈ گنڈا سنگھ کے مقام پر پانی کی سطح بلند ہوکر 20 فٹ ہو گئی۔متعدد مقامات پر زمیندارہ بند ٹوٹنے سے فصلیں زیر آب آگئیں، جس سے کسانوں کو کروڑوں روپے کا نقصان ہوا۔ڈی آئی خان میں دریائے سندھ عبور کرتے ہوئے باپ بیٹا ڈوب گئے، مقامی افراد نے دونوں لاشیں نکال لیں۔
این ڈی ایم اے کی ہدایات:
شہریوں کو موسمی الرٹس پر عمل کرنے، ندی نالوں اور سیلابی علاقوں سے دور رہنے کی ہدایت۔کسانوں اور مقامی آبادی کو اپنی فصلوں اور گھروں کی حفاظت کے لیے محتاط رہنے کا مشورہ۔
پہاڑی علاقوں اور ڈیم کے نزدیک رہائشی لینڈ سلائیڈنگ اور طغیانی کے خطرات سے آگاہ رہیں۔