دریائے ستلج میں پانی کی سطح میں اضافہ، نشیبی علاقوں میں سیلاب کا خطرہ

دریائے ستلج میں پانی کی سطح میں اضافہ، نشیبی علاقوں میں سیلاب کا خطرہ

قصور، پنجاب: نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر (NCOC) کی تازہ رپورٹ کے مطابق، دریائے ستلج میں صبح 6 بجے ہری ڈیم سے ڈسچارج ہونے والے پانی کی مقدار 1,22,890 کیوسک تک پہنچ گئی ہے۔

قصور کے گنڈا سنگھ والا بارڈر پر ستلج کے بہاؤ میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے، اور امکان ہے کہ یہاں پانی کی سطح 1,20,000 کیوسک تک پہنچ سکتی ہے۔ ہیڈ سلیمانکی تک پہنچنے پر پانی کی مقدار مزید بڑھ کر ایک لاکھ کیوسک تک پہنچنے کا امکان ہے۔

مون سون اور بارش کا اثر
ضلعی انتظامیہ کے مطابق، ستلج کے کیچمنٹ ایریا میں مزید بارش کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ مون سون سسٹم کل رات سے عرب سمندر اور خلیج بنگال سے ملک کے بالائی علاقوں میں داخل ہوگا، جبکہ 23 اگست سے ایک مغربی لہر بھی بالائی علاقوں کو متاثر کر سکتی ہے۔مون سون کا آٹھواں سلسلہ ستلج کے بالائی کیچمنٹ ایریاز میں تیز بارشوں کا باعث بنے گا، جس سے دریا میں پانی کے بہاؤ میں مزید اضافہ متوقع ہے۔

حکومتی اقدامات
این ڈی ایم اے صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی پنجاب کے ساتھ مل کر دریا کے کنارے موجود آبادیوں کی خالی کرانے کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔ضلعی انتظامیہ، وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر، دریا کے قریب واقع تمام آبادیوں کو محفوظ علاقوں میں منتقل کر رہی ہے۔کئی نشیبی علاقے پہلے ہی زیر آب آ چکے ہیں، اور امکان ہے کہ آنے والے دنوں میں پانی کی سطح میں مزید اضافہ ہو۔

عوامی ہدایات
ستلج کے قریب رہنے والے لوگ فوراً انتقال کریں۔حکومتی ہدایات پر عمل کریں اور نشیبی علاقوں میں نہ جائیں۔ایمرجنسی کنٹرول روم اور مقامی ڈیزاسٹر مینجمنٹ حکام سے رابطہ رکھیں۔