سیاست کوئی کھیل نہیں

 آکاش علی فرتاش
اقتدار کی کرسی پہ بیٹھے یہ محسوس بھی نہیںکر سکتے کہ محنت کش طبقہ کو درپیش کن مسائل کا سامنا ہے‘ ملک کی قیاد ت کرنے والوںس پہ لازم ہے کے وہ محنت کشوں کے مسائل پر خاص توجہ دیں تا کہ عوام اْن کی قیادت کو خوشی سے قبول کریں لیکن بہرحال دکھائی یہ دیتا ہے کہ ہمیشہ سرمایاداروں‘ جاگیرداروں اور سامراجی نظام کو ترجیح دی جاتی رہی ہے جس کے بدترین نتائج یہ مرتب ہوئے کہ محنت کش طبقہ اپنی جدوجہد جاری و ساری رکھنے کے بعد بھی پروان نہیں چڑھ سکا۔عالمی سطح پہ بھی مْلک کا اصل سرمایہ محنت کش طبقہ ہی رہا ہے ا ور رہے گا لیکن اگر اِس طبقہ کو قابلِ اہمیت نہ بنایا گیا تو وہ دن دور نییں جب یہ طبقہ اپنے حقوق کے حصول کے لئے ہم  آواز ہو جائے گا اگر یہ طبقہ ہم  آواز ہو گیا تو انقلاب کا راستہ خودبخود کھل جائے گا اور یاد ررکھئے انقلاب کا راستہ ہموارہوا تو یہ راستہ ہموار کرنے والے کوئی اور نہیںیہی سامراجی قوتیں جن کی غیرذمہ دارنہ توجہ جس کا نتیجہ انقلاب کو ممکن بنادے گا کیونکہ ہر مظلوم کی برداشت کی ایک حد ہوا کرتی ہے لیکن ہر وہ بدنظامی جس میں مظلوم کو دبایا جائے ‘انصاف کو اْلٹایا جائے ‘ انسانی حقوق کو بے بنیاد کیا جائے ‘یہی وہ وجوہات ہیں جو بے اختیار طبقہ کو بااختیار کرتی ہیں۔
اِس وقت2025میںمزدور طبقہ کی تنخواہ 37ہزار طے کرنے پر کیا کسی حکمران نے نظرِثانی کی ہے کہ ایک عام  آدمی اگر37ہزار ماہانہ کماتا ہے اور اْس کا گھر کرائے کا ہے تو وہ کرایہ ادا کرنے کے بعد بچی کچی رقم مین سے بجلی‘پانی‘گیس کے بل بھی ادا کرے گا تو اْس کے بعد بچنے والی رقم سے گھر کا خوردونوش بمشکل پورا کر سکے گالیکن اپنی خواہشات کو ترک کرنا اْس کی مجبوری بن جایا کرتی ہے‘ بات یہاںختم نہیں ہوتی‘ ذرا سوچیں قوم کا مستقبل قوم کا ہر بچہ ہوا کرتا ہے لیکن کیا تعلیم حاصل کرنا محض اَپر کلاس ہی کا حق ہے ہرگز ایسا نہیں ‘  مْلک کی ترقی کے لئے  تعلیم حاصل کرنا ہر بچہ پہ لازم ہے لیکن محنت کش طبقہ اپنے بچوں کو تعلیم یافتہ کیسے بناہیں ؟  یہ ایک سوالیہ نشان ہے ہم پہ ہماری قوم کے قانون دانون پہ۔ پاکستان کو ترقی یافتہ مْلک کے نعرے دینے والے توجہ فرماہیں کہ پاکستان کی کتنے فیصد عوام ہے جن کے بچے تعلیم سے محروم ہیں‘ ایوانوں میں بیٹھے کاش ایوانوں سے باہر نکل کر کچھ نظر اْن بچوں پہ بھی مرکوز کریں جو اپنی پڑھائی اور کھیل کود کی عمر میں روزگار کے لئے جگہ جگہ محنت مشقت کر رہے ہیں لیکن اْن کے بہترین مستقبل کے لئے کسی لائحہ عمل پہ عمل نہیں ہو رہا۔ ہم ترقی اْس وقت تک نہیں کر سکتے جب تک معاشرہ کی حقیقی اصلاح نہیں کی جائے گی‘ ہم یورپ کی ترقی دیکھ کر فوراََ یورپ کو سرہاتے ہیں لیکن اْن کی ترقی کے راز کو جانتے ہوئے بھی خود کو اندھا ‘ بہرا اور گونگا رکھتے ہیں جبکہ ہمیں چاہیے کے ہم بھی اپنے مْلک کے محنت کش طبقہ کو اِس حد تک سہولیات فراہم کریں جن سے اْن کے بچوں کا مستقبل روشن ہو سکے اور ہمارا مْلک ہماری قوم دنیا میں اپنا ایک الگ مقام نمایاں کر سکے افسوس صدافسوس یہاں ہمیشہ یہی منظر دیکھا گیا ہے کہ محنت کش‘ مزدور طبقہ ہمیشہ پسا گیا ہے اور  آج تک پسا چلاجا رہا ہے۔یاد رکھئے  آزاد مْلک ہونے کے باوجود ایک قوم ہونا اور اور پھر ترقی یافتہ قوم اْبھر کر نمایاں ہونا صرف تعلیم کے اعلیٰ معیار اور حصول کے ذریعہ سے ہی ممکن ہے اِس لئے تعلیم کو امیر و غریب کے لئے یکساں اور اول ترجیح دی جائے نہ کہ سیاست صرف فیورٹ اِزم کے لئے کی جائے کیونکہ ’’سیاست کوئی کھیل نہیں‘‘ سیاست کا اصل مقصد نظام کو بہتر بنانا ہوا کرتا ہے ہر اْس طبقہ کے لئے جو ہم وطن ہو۔
روس جو دنیا کا سْپرپاور تھا اور  آج بھی ہے اْس کی ترقی کا راز تعلیمی معیار کو فروغ دینا اور تعلیم کو اپنے ملک میں سب پہ لازم قرار دینا رہا ہے۔
 آپ روس کا تعلیمی دیکھیں جسے دنیا بھر میں اچھا سمجھا جاتا ہے،روسی نظامِ تعلیم ایک منفرد اور جامع نظام ہے جو علم اور شعور کی بنیاد پر قائم ہے‘ روسی نظام تعلیم میں تعلیم کو بہت اہمیت دی جاتی ہے اور اس بات کو یقینی بنایا جاتا ہے کہ ہر شہری کو تعلیم تک رسائی حاصل ہو۔روس میں تعلیمی سطحیں جن میں پری اسکول‘ بنیادی تعلیم‘ثانوی تعلیم اور اعلیٰ تعلیم شامل ہیں۔پری اسکول بچوں کی نشونما اور ذہنی و جسمانی ترقی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ بنیادی تعلیم میں بچوں کو لکھنے‘پڑھنے اور ریاضی جیسے بنیادی علم سکھائے جاتے ہیں۔ ثانوی تعلیم میںطلباء￿  کو مختلف مضامین میں مہارت حاصل کرنے کا موقع ملتا ہیاور اعلیٰ تعلیم میں وہ اپنی پسند کے شعبے میں مزید تعلیم حاصل کر سکتے ہیں۔روس میں تعلیم کا معیاربہت بلند ہے اور وہاں کے تعلیمی ادارے طلباء  کو بہترین تعلیم فراہم کرنے کے لئے کوشاں رہتے ہیں۔یاد رکھئے روسی یونیورسٹیاںدنیا کی بہترین یونیورسٹیوں میں شمار ہوتی ہیں اور وہاں سے فارغ التحصیل ہونے والے طلباء  کو دنیا بھر میں ملازمتیںمل جاتی ہیں۔
 آپ چین کے تعلیمی معیار کو دیکھیں 2003 میںچین کی مرکزی اور مقامی حکومتیں1,552اعلیٰ تعلیم اداروں (کالجوں اور یونیورٹیوں)، 725,000  استاتذہ اور پروفیسر ز‘11ملین طالب علموںکی مدد کر رہے ہیں‘ چین میں 100سے زائد قومی کلیدی جامعات ہیں جس میں پکینگ یونیورسٹی ا ور سینگہوا یونیورسٹی ہیں جن کا شمار چین کی بہترین یونیورسٹیوں میں کیا جاتا ہے 1999کے بعد سے ہر سال تعلیم پر چینی اخراجات میں 20 فیصداضافہ ہو رہا ہے جو  اب 100 بلین ڈالر تک جا پہنچا ہے۔ 2006 میںچینی یونیورسٹیوں سے تقریباََ1.5 ملین سائنس اور انجینئری  کے طالب علموں نے گریجویشن کی۔چین نے2008 میں 184,080 تحقیقاتی مقالے شائع کئے ہیں۔ آج دنیا بھر کے ممالک میں چین نے اپنا ایک الگ مقام نمایاں کر دکھایا ہے۔
ہمیں بھی اپنے مْلک پاکستان کی ترقی کے لئے اول ترجیح تعلیم کو دینی ہو گی اورطبقاتی تقسیم کو رد کرنا ہو گا کیونکہ طبقاتی تقسیم کی مخالفت ہی سے مْلک میں ترقی کا قیام ممکن ہے‘  آئیں اپنی اپنی سوچ کو بدلیں ہم سب ہم وطن ہیں ہم سب ایک ہیں اور ہمارا مقصد مْلکِ پاکستان کی ترقی
اور دفاع کے لئے یکساں ہونا چائیے ہمیں  ہر طرح کے تعصب کو نظرانداز کر کے سوچ کو بدلنا ہو گااِسی میں ہماری کامیابی ہے۔