جے ڈی وینس کی فیملی کے اچانک سفری مطالبات پر خفیہ سروس کے اہلکار نالاں، اخراجات اور دباؤ میں اضافے

جے ڈی وینس کی فیملی کے اچانک سفری مطالبات پر خفیہ سروس کے اہلکار نالاں، اخراجات اور دباؤ میں اضافے

امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس کی سیکیورٹی پر مامور خفیہ سروس کے اہلکاروں میں ان کے بار بار، اچانک سفری منصوبوں اور آخری وقت میں شیڈول تبدیل کیے جانے پر مبینہ طور پر بے چینی بڑھنے لگی ہے۔

امریکی میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق جے ڈی وینس اور ان کے اہلِ خانہ کی حفاظت پر مامور بعض اہلکاروں کا کہنا ہے کہ نائب صدر کی جانب سے غیر متوقع سفری فیصلوں کے باعث نہ صرف سیکیورٹی انتظامات پیچیدہ ہو جاتے ہیں بلکہ اخراجات میں بھی نمایاں اضافہ ہوتا ہے اور عملے پر اضافی دباؤ پڑتا ہے۔رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایک موقع پر جے ڈی وینس اور ان کے کم عمر بیٹے کو گالف کی تربیت کے لیے واشنگٹن کے ایک حصے سے دوسرے حصے تک سرکاری ہیلی کاپٹر کے ذریعے منتقل کرنے کی درخواست بھی کی گئی۔ اگرچہ خراب موسم کے باعث یہ پرواز نہ ہو سکی، تاہم اس درخواست نے سیکیورٹی اہلکاروں کو حیران کر دیا۔امریکی میڈیا کے مطابق نائب صدر اور ان کی اہلیہ اوشا وینس نے ورجینیا میں رہائش کے لیے گھر کی تلاش کے دوران بھی متعدد بار ہیلی کاپٹر کے ذریعے سفر کیا، جس سے حفاظتی انتظامات مزید پیچیدہ ہو گئے۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مسلسل شیڈول میں تبدیلی اور پیشگی اطلاع نہ ملنے پر بعض اہلکار ناراض ہیں۔

 اسی ناراضی کے اظہار کے لیے کچھ اہلکاروں نے ہلکے پھلکے انداز میں طنزیہ اور مزاحیہ اسٹیکرز بھی تیار کیے۔دوسری جانب جے ڈی وینس کے دفتر نے ان تاثر کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نائب صدر اور ان کا خاندان خفیہ سروس کے اہلکاروں کی خدمات کا احترام کرتا ہے اور ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ادھر امریکی خفیہ سروس کے نائب سربراہ میتھیو کوئن نے بھی اہلکاروں کے کام کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اعلیٰ حکومتی شخصیات کی سیکیورٹی پر مامور عملے کے لیے طویل ڈیوٹیاں، مسلسل سفر اور غیر متوقع شیڈول تبدیلیاں اس پیشے کا معمول کا حصہ ہیں۔معروف صحافی کیرول لیونگ کے مطابق خفیہ سروس کے اہلکار عموماً عوامی سطح پر اپنی شکایات کا اظہار نہیں کرتے، اس لیے اگر ایسی اطلاعات سامنے آئی ہیں تو انہیں سنجیدگی سے دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم اب تک ان دعوؤں کی سرکاری طور پر آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔