ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت اور معاشی کارکردگی پر عوامی اعتماد میں نمایاں کمی سامنے آئی ہے، جس نے امریکی سیاسی ماحول میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کی تازہ رائے شماری کے مطابق تقریباً 70 فیصد امریکی شہری صدر ٹرمپ کی معاشی پالیسیوں سے عدم اطمینان کا اظہار کر رہے ہیں، جبکہ مجموعی طور پر ان کی مقبولیت کی شرح صرف 33 فیصد رہ گئی ہے۔سیاسی مبصرین کے مطابق اس کمی کی بڑی وجہ عوام کی یہ رائے ہے کہ انتظامیہ کی توجہ داخلی معاشی مسائل کے بجائے دیگر بیرونی یا سیاسی معاملات پر زیادہ مرکوز رہی ہے، جس سے مہنگائی، روزگار اور عام شہری کی معاشی مشکلات پر براہِ راست اثر پڑا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ڈونلڈ ٹرمپ نے انتخابی مہم کے دوران معیشت کی بہتری، روزگار کے مواقع اور اندرونی استحکام کو ترجیح دینے کے وعدے کیے تھے، لیکن موجودہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ عوامی توقعات اور زمینی حقائق میں واضح فرق پایا جاتا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق آئندہ وسط مدتی انتخابات امریکی سیاست میں اہم موڑ ثابت ہو سکتے ہیں۔ ریپبلکن پارٹی کو ووٹرز کا اعتماد بحال کرنے کے لیے معاشی میدان میں واضح اور مؤثر کارکردگی دکھانا ہوگی، ورنہ کانگریس میں نشستوں کے نقصان کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ماہرین مزید کہتے ہیں کہ موجودہ رجحانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ امریکی ووٹر معاشی کارکردگی کو سب سے اہم معیار کے طور پر دیکھ رہے ہیں، اور اسی بنیاد پر سیاسی حمایت میں تبدیلی ممکن ہے۔