واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نومبر میں ہونے والے مڈٹرم انتخابات سے چند ہفتے قبل عوامی حمایت میں مزید کمی کا سامنا ہے۔
رائٹرز اور اپسوس کے تازہ سروے کے مطابق ٹرمپ کی مجموعی صدارتی کارکردگی کی منظوری ان کے دونوں صدارتی ادوار کی کم ترین سطح پر آگئی ہے، جبکہ امریکیوں کی بڑی تعداد ان کی معاشی پالیسیوں سے بھی ناخوش ہے۔سروے کے مطابق 66 فیصد امریکیوں نے صدر ٹرمپ کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا، جبکہ صرف 31 فیصد افراد نے ان کی صدارت کی تائید کی۔ یہ شرح دو ہفتے قبل کے مقابلے میں ایک فیصد پوائنٹ کم ہے۔
کانگریس کے انتخابات میں ڈیموکریٹس کو برتری
سروے میں امریکی ووٹرز سے پوچھا گیا کہ اگر کانگریس کے انتخابات ابھی ہوں تو وہ کس جماعت کو ووٹ دیں گے۔ جواب میں 47 فیصد رجسٹرڈ ووٹرز نے ڈیموکریٹک پارٹی، جبکہ 35 فیصد نے ریپبلکن پارٹی کی حمایت کی۔اس طرح ڈیموکریٹس کو ریپبلکنز پر 12 پوائنٹس کی برتری حاصل ہوئی، جو رواں انتخابی دور میں اب تک کا سب سے بڑا فرق ہے۔ یہ نتائج 3 نومبر 2026 کو ہونے والے مڈٹرم انتخابات سے قبل ریپبلکن پارٹی کے لیے ایک اہم سیاسی چیلنج کی نشاندہی کرتے ہیں۔مڈٹرم انتخابات میں امریکی کانگریس کے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ کی نشستوں پر ووٹنگ ہوتی ہے۔ ان انتخابات کے نتائج صدر کی آئندہ قانون سازی اور حکومتی پالیسیوں پر عمل درآمد کی صلاحیت کو متاثر کرسکتے ہیں۔
معاشی پالیسیوں پر بھی عدم اطمینان
رائٹرز اور اپسوس کے سروے کے مطابق امریکی عوام کی ناراضی کی بڑی وجوہات میں مہنگائی، ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور معاشی صورت حال شامل ہیں۔سروے میں 68 فیصد امریکیوں نے ٹرمپ کی معاشی کارکردگی پر عدم اطمینان ظاہر کیا۔ اس کے برعکس صرف ایک محدود تعداد نے معاشی معاملات میں ان کی پالیسیوں کی حمایت کی۔کانگریس کے انتخاب میں معاشی معاملات پر اعتماد سے متعلق سوال پر 40 فیصد افراد نے ریپبلکنز کے مقابلے میں ڈیموکریٹس پر زیادہ اعتماد ظاہر کیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ معیشت اور روزمرہ اخراجات انتخابی مہم کے اہم موضوعات بن چکے ہیں۔
ایران جنگ اور پیٹرول کی قیمتوں کا اثر
رپورٹ کے مطابق ایران پر امریکی فوجی حملوں کے بعد پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے نے بھی صدر ٹرمپ کی مقبولیت کو متاثر کیا ہے۔ ایندھن مہنگا ہونے سے گھریلو بجٹ پر دباؤ بڑھتا ہے، جس کے باعث ووٹرز حکومت کی معاشی کارکردگی کا زیادہ سختی سے جائزہ لیتے ہیں۔توانائی کی قیمتوں میں اضافے اور مہنگائی کے خدشات نے امریکی صارفین کی تشویش بڑھائی ہے۔ اس صورت حال میں ٹرمپ انتظامیہ کے لیے عوام کو معاشی پالیسیوں کے فوائد پر مطمئن کرنا انتخابی مہم کا اہم چیلنج بن گیا ہے۔
مڈٹرم انتخابات ریپبلکنز کے لیے اہم امتحان
امریکی مڈٹرم انتخابات میں ڈیموکریٹس کی موجودہ برتری ریپبلکن پارٹی کے لیے مشکلات بڑھا سکتی ہے، تاہم سروے کے نتائج حتمی انتخابی نتیجے کی ضمانت نہیں ہوتے۔ ووٹرز کا ٹرن آؤٹ، مختلف ریاستوں میں مقابلے کی نوعیت اور انتخابی مہم کے دوران سامنے آنے والے نئے معاملات نتائج پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔تازہ سروے ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں جماعتیں کانگریس میں اپنی پوزیشن مضبوط بنانے کے لیے انتخابی مہم چلا رہی ہیں۔ اگر ڈیموکریٹس کانگریس کے کسی ایک یا دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل کرلیتے ہیں تو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں اور قانون سازی کے عمل پر نگرانی بڑھ سکتی ہے۔