ایران کی فوجی صلاحیتوں سے متعلق ایک امریکی ٹی وی چینل کی رپورٹ نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران کی دفاعی طاقت اب بھی نمایاں حد تک برقرار ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایران کے تقریباً 50 فیصد بیلسٹک میزائل اور ان کے لانچنگ سسٹمز اب بھی فعال یا موجود ہیں۔ اسی طرح پاسداران انقلاب ایران کے پاس مبینہ طور پر 60 فیصد بحری اسلحہ اور تیز رفتار کشتیاں (اسپیڈ بوٹس) موجود ہیں، جنہیں بعض مواقع پر آبنائے ہرمز جیسے حساس سمندری راستوں میں استعمال کیا جاتا رہا ہے۔فضائی صلاحیت کے حوالے سے رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران کی فضائیہ کا تقریباً دو تہائی حصہ اب بھی آپریشنل حالت میں ہے، جس سے اس کی دفاعی تیاری کسی حد تک برقرار دکھائی دیتی ہے۔امریکی میڈیا کے مطابق یہ اعداد و شمار اس تاثر کے برعکس ہیں جو بعض حلقوں کی جانب سے پیش کیا جاتا ہے کہ ایران کی فوجی صلاحیت کو بڑی حد تک کمزور کیا جا چکا ہے۔تاہم دوسری جانب وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے ان رپورٹس کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی میڈیا ایک بار پھر ایران کے حق میں پروپیگنڈا کر رہا ہے۔
ان کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکی افواج نے صرف 38 دنوں میں ایران کے دفاعی اور صنعتی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے، اور اس کی میزائل و ڈرون صلاحیت کو کئی سال پیچھے دھکیل دیا گیا ہے۔انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایرانی بحریہ کو بھی نمایاں نقصان پہنچایا گیا ہے، جس کے باعث اس کی عملی صلاحیت محدود ہو چکی ہے۔یہ متضاد بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خطے میں کشیدگی برقرار ہے اور عالمی سطح پر ایران اور امریکا کے درمیان تناؤ کم کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔