امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں پاکستان کے کردار اور بھارت پر امریکی اقدامات کے تناظر میں امریکی جریدے فارن پالیسی میں شائع ہونے والے ایک تجزیے میں بھارتی خارجہ پالیسی پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق بعض بھارتی پالیسی سازوں نے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ امریکا کی نظر میں چین کے مقابلے میں بھارت کی اسٹریٹجک اہمیت میں تبدیلی آ رہی ہے۔امریکی تجزیہ کار ایڈورڈ لوس کے مطابق آنے والی کئی دہائیوں تک بھارت کے لیے چین کا ہم پلہ بننا مشکل دکھائی دیتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کی جانب سے سخت تجارتی محصولات، ایچ-1 بی ویزا فیس میں اضافے اور روسی تیل کی خریداری سے متعلق پابندیوں نے بھارت پر دباؤ میں اضافہ کیا ہے۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات میں پاکستان کو ثالثی کے کردار میں قبول کرنا بھارت کے لیے ایک اہم سفارتی دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔بھارتی تجزیہ نگار ڈاکٹر ہریندر سیکھن کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ کے دوسرے دورِ حکومت، بالخصوص "آپریشن سندور" کے بعد بھارت کو سخت امریکی پالیسیوں کا سامنا ہے۔ ان کے بقول، ٹرمپ انتظامیہ کا رویہ، امریکا کا پاکستان سے مسلسل رابطہ اور آبنائے ہرمز کی صورتحال نے امریکا اور بھارت کے تعلقات کو متاثر کیا ہے۔
تجزیے میں مزید کہا گیا ہے کہ مودی حکومت کی پالیسی کے باعث بھارت ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کے کردار میں سامنے نہ آ سکا، جبکہ پاکستان نے یہ کردار مؤثر انداز میں ادا کیا۔ رپورٹ میں یہ بھی مؤقف اختیار کیا گیا کہ کشمیر کے معاملے پر بیرونی ثالثی کی مخالفت بھارت کی سخت گیر پالیسی کا حصہ ہے۔بھارتی سینئر صحافی نیلو ویاس نے بھی مودی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ سیاسی صورتحال میں بھارت کے لیے امریکا کے خلاف مؤثر مؤقف اختیار کرنا آسان نہیں۔رپورٹ میں پیش کیے گئے خیالات متعلقہ تجزیہ کاروں اور مبصرین کی آراء پر مبنی ہیں، جن پر مختلف حلقوں کی جانب سے مختلف مؤقف سامنے آ سکتے ہیں۔