ایرانی صدارتی دفتر کے ترجمان مہدی طباطبائی نے ملک کے اندر قیادت میں اختلافات سے متعلق سامنے آنے والی خبروں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی اعلیٰ سیاسی قیادت کے اندر مکمل اور مثالی اتحاد موجود ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بعض بیرونی حلقے اور مخالف عناصر ملک میں انتشار اور اختلافات کا تاثر دینے کے لیے منظم پروپیگنڈا کر رہے ہیں، تاہم زمینی حقیقت اس کے برعکس ہے اور ایران کی ریاستی قیادت ایک مؤقف پر متحد ہے۔ترجمان کے مطابق ایران مذاکرات کے دروازے بند نہیں کر رہا، بلکہ وہ بات چیت کے لیے تیار ہے، مگر یہ مذاکرات صرف اسی صورت میں ممکن ہیں جب انہیں انصاف، وقار اور دانشمندی کی بنیاد پر آگے بڑھایا جائے۔مہدی طباطبائی نے بالواسطہ طور پر ڈونلڈ ٹرمپ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بعض عالمی رہنما سیاسی فائدے کے لیے جھوٹی کہانیاں اور پروپیگنڈا پھیلا رہے ہیں۔ ان کے مطابق ایسے عناصر کو چاہیے کہ وہ الزام تراشی کے بجائے اپنی مبینہ وعدہ خلافیوں اور دباؤ کی پالیسیوں پر نظرثانی کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کا مؤقف واضح ہے: ملک نہ تو دباؤ میں آئے گا اور نہ ہی ایسے مذاکرات قبول کرے گا جو یکطرفہ ہوں یا کسی فریق کی برتری قائم کرنے کے لیے ہوں۔اس بیان کو تجزیہ کار ایران کے حالیہ سفارتی بیانیے کا تسلسل قرار دے رہے ہیں، جس میں تہران ایک طرف مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کر رہا ہے، جبکہ دوسری طرف سخت شرائط اور اصولی مؤقف پر بھی زور دے رہا ہے۔