آبنائے ہرمز میں ایرانی فوج کی فائرنگ‘اسرائیلی سمیت2 بحری جہاز پکڑ لئے

 دونوں جہاز بغیر اجازت سرگرم تھے ‘ بار بار قواعد کی خلاف ورزیاں کر رہے تھے‘قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر فیصلہ کن کارروائی کی جائے گی:پاسداران انقلاب
 ناکہ بندی کے باوجود ایران کے34 ٹینکرز نے آبنائے ہرمز عبور کر لی‘ جارحیت کی گئی تو ایرانی فورسز مقرر کردہ اہداف کو نشانہ بنائیں گی : خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹرز 
تہران(مانیٹرنگ ڈیسک)پریس ٹی وی کے مطابق پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے  اس نے آبنائے ہرمز میں خلاف ورزیوں کے الزام میں دو بحری جہازوں کو روک کر ایرانی حدود میں منتقل کر دیا ہے۔پاسدارانِ انقلاب نے جہازوں کی شناخت ایم ایس سی فرانسسکا اور ایپامینوڈس کے نام سے کی ہے، ایم ایس سی فرانسسکا کا تعلق اسرائیل سے بتایا گیا ہے۔ایرانی بحریہ کے مطابق دونوں جہاز بغیر اجازت سرگرم تھے اور بار بار قواعد کی خلاف ورزیاں کر رہے تھے، ان کی جانب سے نیویگیشن سسٹم میں رد و بدل کیا گیا تھا، دونوں جہازوں کو آبنائے ہرمز میں سیفٹی کو خطرے میں ڈالنے پر قبضے میں لیا گیا، جنہیں ایرانی ساحل پر منتقل کردیاگیا۔پاسداران انقلاب نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے ایران کی جانب سے اعلان کردہ قوانین کی خلاف ورزی یا محفوظ گزرگاہ کے منافی کسی بھی سرگرمی پر مسلسل نظر رکھی جائے گی اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف فیصلہ کن اور قانونی کارروائی کی جائے گی۔دریں ثاناء امریکی دعوئو ں کے برعکسِ آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی کے باوجود ایران سے منسلک کم از کم 34 ٹینکرز گزرنے میں کامیاب ہو گئے جن میں کئی ایرانی تیل لے جا رہے تھے۔  ایران کی مسلح افواج نے کہا ہے  اگر امریکہ کی جانب سے کوئی نیا حملہ کیا گیا تو وہ پہلے سے طے شدہ اہداف کو فوری طور پر نشانہ بنائیں گی۔ایرانی میڈیارپورٹس کے مطابق یہ انتباہ ایرانی فوج کے مرکزی کمانڈ خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹرز نے امریکی صدر ٹرمپ اور امریکی فوجی قیادت کی جانب سے بار بار دھمکیوں کے بعد سامنے  آیا