ورلڈ اکنامک فورم نے بانی کلاوس شواب کے خلاف الزامات پر تحقیقات کی منظوری دے دی

ورلڈ اکنامک فورم نے بانی کلاوس شواب کے خلاف الزامات پر تحقیقات کی منظوری دے دی

ورلڈ اکنامک فورم (WEF) نے تصدیق کی ہے کہ اس کے بانی اور طویل عرصے تک چیئرمین رہنے والے کلاوس شواب کے خلاف الزامات کی آزادانہ تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

 یہ فیصلہ ایک گمنام خط میں لگائے گئے سنگین الزامات کے بعد کیا گیا ہے، جس میں شواب اور ان کی اہلیہ ہلڈے پر مالی اور اخلاقی بے ضابطگیوں کا دعویٰ کیا گیا تھا۔فورم کے بیان کے مطابق آڈٹ اینڈ رسک کمیٹی نے ان الزامات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ایک غیر جانبدار انکوائری کی سفارش کی، جسے بورڈ آف ٹرسٹیز نے متفقہ طور پر منظور کیا۔کلاوس شواب نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کیا ہے، لیکن ان کے خلاف تحقیقات کے آغاز سے چند دن قبل ہی انہوں نے اچانک اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ ان کے اس غیر متوقع اقدام نے الزامات کے تناظر میں کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔

کلاوس شواب نے 1971 میں ورلڈ اکنامک فورم کی بنیاد رکھی تھی اور وہ گزشتہ 55 سال سے اس ادارے کی قیادت کرتے رہے۔ وہ ہر سال سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں منعقد ہونے والی عالمی ایلیٹ کانفرنس کے بانی اور روح رواں سمجھے جاتے ہیں، جو عالمی رہنماؤں، کارپوریٹ سربراہان اور ماہرین اقتصادیات کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرتی ہے۔ورلڈ اکنامک فورم نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس انکوائری کو مکمل شفافیت کے ساتھ آگے بڑھائے گا اور حقائق سامنے آنے کے بعد مزید اقدامات کرے گا۔