اسلام آباد پر دوبارہ چڑھائی ہوئی تو سختی سے روکیں گے، طلال چوہدری

اسلام آباد پر دوبارہ چڑھائی ہوئی تو سختی سے روکیں گے، طلال چوہدری

اسلام آباد: وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ اسلام آباد کی جانب دوبارہ پیش قدمی کی گئی تو حکومت اسے روکنے کے لیے سخت اقدامات کرے گی، ایسا ردعمل دیا جائے گا کہ آئندہ کوئی بھی اس طرح کی کارروائی کرنے سے پہلے سوچے گا۔

 طلال چوہدری نے کہا کہ حکومتی وسائل یا طاقت کی بنیاد پر کسی شہر پر حملہ نہیں کیا جاسکتا۔ ان کے مطابق اسلام آباد کی جانب پیش قدمی آئینی حلف اور عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کے زمرے میں آسکتی ہے، جبکہ ہائیکورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی توہین عدالت کا باعث بن سکتی ہے۔وزیر مملکت نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے حالیہ حکم کے بعد احتجاج کے نام پر دارالحکومت کی جانب پیش قدمی سے گریز کرنا لازم ہے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ کسی صوبے کی انتظامی طاقت یا سرکاری وسائل کو وفاق کے خلاف استعمال نہیں کیا جاسکتا۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے 14 ستمبر کے فیصلے میں قرار دیا تھا کہ کسی سیاسی جماعت، سیاسی رہنما یا صوبائی حکومت کو اسلام آباد کی سڑکوں، شاہراہوں، انٹرچینجز، ٹول پلازوں یا سرکاری عمارتوں پر قبضہ کرنے یا شہریوں کی آزادانہ نقل و حرکت میں رکاوٹ ڈالنے کا قانونی حق حاصل نہیں۔ عدالت نے صوبائی حکومتوں کو یہ بھی ہدایت کی تھی کہ احتجاج کے لیے سرکاری گاڑیوں، مشینری یا دیگر سرکاری وسائل استعمال نہ ہونے دیے جائیں۔

طلال چوہدری نے تحریک انصاف کے سابق احتجاجی واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت 26 نومبر اور 9 مئی کے واقعات کو دیکھ چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب بھی حالات معمول پر آنے لگتے ہیں تو دوبارہ سیاسی کشیدگی پیدا کرنے کی کوشش شروع ہوجاتی ہے، تاہم احتجاج یا سڑکیں بند کرنے سے جیل میں موجود کسی قیدی سے ملاقات ممکن نہیں ہوگی کیونکہ ملاقاتیں جیل کے قواعد و ضوابط کے مطابق ہی ہوسکتی ہیں۔انہوں نے گزشتہ احتجاج کے حوالے سے الزام عائد کیا کہ اس دوران سیکیورٹی اہلکاروں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور بعض اہلکار زخمی ہوئے۔ طلال چوہدری نے پی ٹی آئی کے صوبائی صدر جنید اکبر کے اسلام آباد کو ’’سومنات‘‘ بنانے سے متعلق بیان پر بھی تنقید کی۔

وزیر مملکت نے مزید کہا کہ آئین میں گورنر راج کا آپشن موجود ہے، تاہم وفاقی حکومت سیاسی حکومت ہے اور وہ معاملات میں جلد بازی نہیں کرنا چاہتی۔ ان کے مطابق حکومت سیاسی لوگوں کو بات چیت اور مسائل کے حل کا موقع دینا چاہتی ہے۔یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تحریک انصاف نے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب احتجاج اور مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔ وفاقی حکومت نے واضح کیا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم پر عملدرآمد کرایا جائے گا، جبکہ پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ وہ اپنے سیاسی اور احتجاج کے حق کو استعمال کرے گی۔