واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ اور بڑے میڈیا اداروں کے درمیان جاری تنازع کے دوران وائٹ ہاؤس نے یوٹیوب پر ’TRUMP TV: The Essentials Station‘ کے نام سے 24 گھنٹے چلنے والا ڈیجیٹل ویڈیو چینل لانچ کردیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق نیا پلیٹ فارم صدر ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ سے متعلق اہم بیانات، اعلانات، ویڈیوز اور دیگر مواد ایک جگہ فراہم کرے گا۔ چینل کو حقیقی وقت میں اپ ڈیٹ کرنے کا اعلان کیا گیا ہے اور اس کی نشریات وائٹ ہاؤس کی ویب سائٹ اور یوٹیوب کے ذریعے دستیاب ہیں۔نئے ڈیجیٹل چینل کا آغاز 21 ستمبر کی شام ہوا۔ ابتدائی نشریات میں صدر ٹرمپ کی سابقہ تقاریر اور اہم مواقع کی ریکارڈ شدہ ویڈیوز شامل تھیں، جن میں ماؤنٹ رشمور پر 3 جولائی کی تقریر اور 2025 میں ان کی بطور 47ویں صدر حلف برداری کی فوٹیج بھی شامل تھی۔وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری تفصیل کے مطابق ’ٹرمپ ٹی وی‘ پر انتظامیہ کے اہم لمحات، صدر کے بڑے بیانات، نمایاں ویڈیوز اور دیگر منتخب مواد 24 گھنٹے دستیاب رہے گا۔ تاہم ابتدائی مرحلے میں یہ مکمل طور پر واضح نہیں کہ چینل مستقبل میں موجودہ واقعات کی براہ راست ویڈیو کوریج کس حد تک کرے گا یا زیادہ تر ریکارڈ شدہ مواد نشر کرے گا۔نئے چینل کا آغاز ایسے وقت میں ہوا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ اور امریکی میڈیا کے بعض بڑے اداروں کے درمیان وائٹ ہاؤس تک رسائی کے معاملے پر شدید تنازع جاری ہے۔ صدر ٹرمپ نے CNN، MS NOW اور Politico کے صحافیوں کو وائٹ ہاؤس کی عمارت اور احاطے سے روکنے کا فیصلہ کیا تھا، جس کے بعد تینوں اداروں نے وفاقی عدالت سے رجوع کیا ہے۔
CNN، MS NOW اور Politico نے اپنی درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ صحافیوں کی رسائی ختم کرنا امریکی آئین کی پہلی ترمیم میں آزادیٔ صحافت سے متعلق حقوق اور پانچویں ترمیم کے تحت قانونی طریقہ کار کی خلاف ورزی ہے۔ میڈیا اداروں نے عدالت سے پابندی روکنے اور اپنے صحافیوں کی وائٹ ہاؤس تک رسائی بحال کرنے کی استدعا کی ہے۔دوسری جانب وائٹ ہاؤس کا مؤقف ہے کہ پریس اداروں کو وائٹ ہاؤس کے مخصوص پریس پول یا مخصوص مقامات تک مستقل رسائی کا قانونی حق حاصل نہیں۔ صدر ٹرمپ نے بھی پابندی کا دفاع کرتے ہوئے ان میڈیا اداروں کی کوریج پر اعتراضات کیے ہیں۔میڈیا تنازع کے اثرات وائٹ ہاؤس کے ٹی وی پریس پول تک بھی پہنچے۔ ABC، CBS، NBC، Fox News اور CNN پر مشتمل ٹی وی پول نے صدر کی بعض سرکاری تقریبات کی ویڈیو کوریج معطل کرنے کا اعلان کیا۔ اس نظام کے تحت مختلف نشریاتی ادارے باری باری صدر کی تقریبات کی ویڈیو بناتے اور یہ فوٹیج دیگر میڈیا اداروں کو فراہم کرتے ہیں۔
CNN، MS NOW اور Politico کی جانب سے دائر مقدمہ اور ٹی وی پریس پول میں پیدا ہونے والی صورتحال کے باعث وائٹ ہاؤس کی سرکاری ویڈیو کوریج اور آزاد میڈیا کی رسائی کا معاملہ اب قانونی اور صحافتی دونوں سطحوں پر زیر بحث ہے۔اسی پس منظر میں ’ٹرمپ ٹی وی‘ کا آغاز انتظامیہ کے لیے عوام تک صدر اور حکومت کی سرگرمیوں کا مواد براہ راست پہنچانے کا ایک نیا ذریعہ بن گیا ہے، جبکہ وائٹ ہاؤس اور بڑے میڈیا اداروں کے درمیان رسائی اور آزادیٔ صحافت سے متعلق قانونی تنازع عدالت میں زیر سماعت ہے۔