واشنگٹن: امریکا کے دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاؤس کے قریب متعدد آتشیں ہتھیار رکھنے والے ایک مشتبہ شخص کو خفیہ سروس کے اہلکاروں نے گرفتار کر لیا۔
امریکی حکام کے مطابق ملزم کی گاڑی سے تین مختلف ہتھیار اور درجنوں گولیاں برآمد ہوئیں، جبکہ اس پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کی دھمکی دینے کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے۔امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس اور اے بی سی نیوز کے مطابق واقعہ جمعرات 5 نومبر 2026 کی رات پیش آیا، جب امریکی خفیہ سروس کے اہلکاروں نے وائٹ ہاؤس کے قریب کانسٹی ٹیوشن ایونیو پر کھڑی ایک مشکوک گاڑی کو دیکھا۔حکام کے مطابق اہلکاروں نے گاڑی کے قریب پہنچ کر ڈرائیور سے پوچھ گچھ کی تو اس نے مبینہ طور پر گاڑی میں ہتھیار موجود ہونے کا اشارہ دیا۔ اس اطلاع کے بعد اہلکاروں نے گاڑی کی تلاشی لی، جس کے دوران مختلف اقسام کے تین آتشیں ہتھیار اور بڑی تعداد میں گولیاں برآمد ہوئیں۔
گاڑی سے کون سے ہتھیار برآمد ہوئے؟
امریکی حکام کے مطابق گاڑی سے ایک اے آر 15 طرز کی رائفل، ایک میک 10 مشین پستول اور ایک گلاک 43 ایکس پستول برآمد کیا گیا۔اس کے علاوہ گاڑی سے درجنوں گولیاں بھی ملیں، جس کے بعد مشتبہ شخص کو حراست میں لے کر مزید تفتیش شروع کر دی گئی۔
گاڑی چوری شدہ ہونے کا انکشاف
تحقیقات کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ مشتبہ شخص جس گاڑی میں موجود تھا، وہ چوری شدہ تھی اور اس کے حوالے سے پولیس کو پہلے ہی اطلاع دی جا چکی تھی۔حکام اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ مشتبہ شخص وائٹ ہاؤس کے قریب کس مقصد کے تحت موجود تھا اور آیا اس کا وہاں پہنچنے کا تعلق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مبینہ دھمکی دینے سے تھا یا نہیں۔
صدر ٹرمپ کی سکیورٹی سے متعلق تشویش
وائٹ ہاؤس کے قریب اسلحے سے لیس مشتبہ شخص کی گرفتاری کے واقعے نے امریکی صدر کی سکیورٹی کے حوالے سے ایک بار پھر توجہ حاصل کر لی ہے۔